اعجاز جاں دہی ہے ہمارے کلام کو
دیوانِ مومن
Published 14 October 2026
اعجاز جاں دہی ہے ہمارے کلام کو
زندہ کیا ہے ہم نے مسیحا کے نام کو
لکھو سلام غیر کے خط میں غلام کو
بندے کا بس سلام ہے ایسے سلام کو
اب شور ہے مثال جو دی اس خرام کو
یوں کون جانتا تھا قیامت کے نام کو
آتا ہے بہر قتل وہ دور اے ہجوم یاس
گھبرا نہ جاے دیکھ کہیں اژدحام کو
گو آپ نے جواب برا ہی دیا ولے
مجھ سے بیاں نہ کیجے عدو کے پیام کو
یاں وصل ہے تلافی ہجراں میں اے فلک
کیوں سوچتا ہے تازہ ستم انتقام کو
تیرے سمند ناز کی بے جا شرارتیں
کرتے ہیں آگ نالۂ اندیشہ کام کو
گریہ پہ میرے زندہ دلو ہنستے کیا ہو آہ
روتا ہوں اپنے میں دل جنت مقام کو
سہ سہ کے نادرست تری خو بگاڑ دی
ہم نے خراب آپ کیا اپنے کام کو
اس سے جلا کے غیر کو امید پختگی
لگ جائے آگ دل کے خیالات خام کو
بخت سپید آئینہ داری کرے تو میں
دکھلاؤں دل کے جور اس آئینہ فام کو
جب تو چلے جنازۂ عاشق کے ساتھ ساتھ
پھر کون وارثوں کے سنے اذن عام کو
شاید کہ دن پھرے ہیں کسی تیرہ روز کے
اب غیر اس گلی میں نہیں پھرتے شام کو
مدت سے نام سنتے تھے مومنؔ کا بارے آج
دیکھا بھی ہم نے اس شعرا کے امام کو
مومن خان مومن
About Momin Khan Momin (مومن خان مومن)
مومن خان مومن (1800 – 1852) دہلی کے شاعر، طبیب اور منجم تھے۔ اپنی غزلوں بالخصوص "وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا" کے لیے مشہور ہیں۔
More Urdu poetry by Momin Khan Momin
- جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا (Ghazal)
- ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا (Ghazal)
- تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں (Ghazal)
- وعدے کی جو ساعت دم کشتن ہے ہمارا (Ghazal)