Prof. Syed Mujahid Sajjad

فضول ہے

میراجی

کلیاتِ میراجی

Published 14 October 2026

فضول ہے

یہ گفتگو ہے

نگاہ دیکھتی ہے طاق میں رکھی ہیں چند بوتلیں

چلو چلیں

چلو چلیں جہاں ہمیں خیال ہی نہ آئے زندگی نظر کی بھول ہے

چلو چلیں جہاں یہ در یہ دستکوں پہ دستکیں سنائی ہی نہ دے سکیں

جہاں یہ روزن زبوں نگاہ کی مخاصمت نہ کر سکے

جہاں کھلی فضا کھلی فضا کہ جیسے کوئی کہہ رہا ہو آئیے

یہ کہہ رہی ہو آئیے کھلی فضا ہے یہ یہاں تو آئیے

مگر کھلی فضا میں بھی کبھی گڑھے کبھی ستادہ پیڑ کہہ رہے ہیں دیکھیے

یہ گفتگو فضول ہے

فضول ہے

نگاہ دیکھتی ہے طاق میں رکھی ہیں چند بوتلیں

چلو چلیں

جو گود ماں کی تھی وہ ماں کی گود تھی

وہاں ہر ایک بات جو فضول تھی وہ ایک بھول تھی

نگاہ دیکھتی ہے طاق میں رکھی ہیں چند بوتلیں

چلو چلیں

بہن یہ کہہ رہی تھی اب تو آپ گھر بسا ہی لیں

میں سوچتا تھا کس کا گھر ہمارا گھر تمہارا گھر

اور اس پہ بھائی بول اٹھا فضول ہے یہ گفتگو فضول ہے

نگاہ دیکھتی ہے طاق میں رکھی ہیں چند بوتلیں

چلو چلیں جہاں نہ کوئی طاق ہو نہ چند بوتلیں جہاں نہ کہہ سکیں چلو چلیں

یہ گفتگو فضول ہے

مگر وہاں کوئی گڑھا نہ ہو نہ کوئی پیڑ ہو

وہاں سکون آخری سے جا ملیں

مگر یہاں بھی طاق پر رکھی ہیں چند بوتلیں

About Meeraji (میراجی)

میراجی (1912 – 1949) اردو کے جدید شاعر تھے جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا۔ وہ لاہور سے تعلق رکھتے تھے اور آزاد نظم اور علامتی شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

Read all poetry by Meeraji

More Urdu poetry by Meeraji