Prof. Syed Mujahid Sajjad

رسیلے جرائم کی خوشبو

میراجی

کلیاتِ میراجی

Published 14 October 2026

رسیلے جرائم کی خوشبو

مرے ذہن میں آ رہی ہے

رسیلے جرائم کی خوشبو

مجھے حد ادراک سے دور لے جا رہی ہے

جوانی کا خوں ہے

بہاریں ہیں موسم زمیں پر!

پسند آج مجھ کو جنوں ہے

نگاہوں میں ہے میرے نشے کی الجھن

کہ چھایا ہے ترغیب کا جال ہر اک حسیں پر

رسیلے جرائم کی خوشبو مجھے آج للچا رہی ہے!

قوانین اخلاق کے سارے بندھن شکستہ نظر آ رہے ہیں

حسین اور ممنوع جھرمٹ مرے دل کو پھسلا رہے ہیں

یہ ملبوس ریشم کے اور ان کی لرزش

یہ غازہ..... یہ انجن

نسائی فسوں کی ہر اک موہنی آج کرتی ہے سازش

مرے دل کو بہکا رہی ہے!

مرے ذہن میں آ رہی ہے

رسیلے جرائم کی خوشبو!

About Meeraji (میراجی)

میراجی (1912 – 1949) اردو کے جدید شاعر تھے جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا۔ وہ لاہور سے تعلق رکھتے تھے اور آزاد نظم اور علامتی شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

Read all poetry by Meeraji

More Urdu poetry by Meeraji