Prof. Syed Mujahid Sajjad

سمجھ لو کہ جو شے نظر آئے اور یہ کہے میں کہاں ہوں

میراجی

کلیاتِ میراجی

Published 14 October 2026

سمجھ لو کہ جو شے نظر آئے اور یہ کہے میں کہاں ہوں

کہیں بھی نہیں ہے

سمجھ لو کہ جو شے دکھائی دیا کرتی ہے اور دکھائی نہیں دیتی ہے

وہ یہیں ہے

یہیں ہے مگر اب کہاں ہے

مگر اب کہاں ہے

یہ کیا بات ہے ایسے جیسے ابھی وہ یہیں تھی

مگر اب کہاں ہے

کوئی یاد ہے یا کوئی دھیان ہے یا کوئی خواب ہے

نہ وہ یاد ہے اور نہ وہ دھیان ہے اور نہ وہ خواب ہے

مگر پھر بھی کچھ ہے

مگر پھر بھی کچھ ہے

وہ اک لہر ہے ہاں فقط لہر ہے

وہ اک لہر ہے ایسی جیسی کسی لہر میں بھی کوئی بات ہی تو نہیں ہے

اسی بات کو رو رہا ہوں

اسی بات کو رو رہا ہے زمانہ

زمانہ اگر رو رہا ہے تو روئے

مگر میں ازل سے تبسم ہنسی قہقہوں ہی میں پلتا رہا ہوں

ازل سے مرا کام ہنسنا ہنسانا رہا ہے

تو کیا جب زمانہ ہنسا تھا تو اس کو ہنسایا تھا میں نے

یہ تم کہہ رہے ہو جو روتے رہے ہو

اگر تم یہ کہتے ہو میں مانتا ہوں

مگر جب زمانے کو رونا رلانا ملانا ہے تو روتا رہے گا زمانہ

فقط میں ہنسوں گا

یہ ممکن نہیں ہے

زمانہ اگر روئے روؤں گا میں بھی

زمانہ ہنسے گا تو میں بھی ہنسوں گا

مگر یہ زمانے کا ہنسنا یہ رونا وہ شے ہے نظر آئے اور

یہ کہے میں کہاں ہوں کہیں بھی نہیں ہوں

زمانے کا ہنسنا زمانے کا رونا وہ شے ہے

دکھائی دیا کرتی ہے اور دکھائی نہیں دیتی ہے اور یہیں ہے

میں ہنستا چلا جاؤں گا اور روتا چلا جاؤں گا اور پھر بھی

زمانہ کہے گا تو روتا رہا ہے تو ہنستا رہا ہے

مگر میں یہ کہتا ہوں تم سے کہ میں ہی وہ شے ہوں

جو اب بھی نظر آئے اور یہ کہے میں کہاں ہوں تو پھر بھی دکھائی

نہ دے اور کہے میں کہیں بھی نہیں ہوں

میں روتا رہا تھا میں ہنستا گیا ہوں

مگر تم تو ہنستے گئے تھے

بس اب تم ہی روؤ گے اور صرف

اک میں ہوں جو اب بھی ہنستا رہوں گا

About Meeraji (میراجی)

میراجی (1912 – 1949) اردو کے جدید شاعر تھے جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا۔ وہ لاہور سے تعلق رکھتے تھے اور آزاد نظم اور علامتی شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

Read all poetry by Meeraji

More Urdu poetry by Meeraji