کوہ سے زریں اذیت کے گزر جانے کے بعد
کلیاتِ میراجی
Published 14 October 2026
کوہ سے زریں اذیت کے گزر جانے کے بعد
سرخ نغمہ شام کا اک پل میں مر جانے کے بعد
ہاں پس از فریاد و قلب دہر کی لرزش کے بعد
دن کی تم آلود زرد و لالہ گوں کاوش کے بعد
تیرگی کے داغ دل سے کس طرح دھوؤں گا میں
جاگتے ہی جاگتے پھر صبح تک روؤں گا میں
ہاں وہی میں دن کو جس کی آنکھ تھی اور آفتاب
ہاں وہی میں جس نے دیکھا دہر لبریز حیات
ذہن انسانی مرا کہتا ہے کھا کر پیچ و تاب
دیکھ لے حسن مناظر کو نہیں حاصل ثبات
قلب میخانے کی ہا و ہو کا عادی ہے مرا
کچھ تعلق ہی نہیں مجھ کو سکون سنگ سے
مجھ کو خوش آتی نہیں ہے امن کی شب گوں فضا
روح کو تسکیں ملے گی ایک پیہم جنگ سے
About Meeraji (میراجی)
میراجی (1912 – 1949) اردو کے جدید شاعر تھے جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا۔ وہ لاہور سے تعلق رکھتے تھے اور آزاد نظم اور علامتی شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔