Prof. Syed Mujahid Sajjad

بہو کہے یہ بڑھیا میری جان کی لاگو بن کے رہے گی

میراجی

کلیاتِ میراجی

Published 14 October 2026

بہو کہے یہ بڑھیا میری جان کی لاگو بن کے رہے گی

ساس کہے گز بھر کی زباں ہے اپنی منہ آئی ہی کہے گی

بہو کہے جب دیکھو جب ہی خواہی نخواہی بات بڑھانا

ساس پکارے اے مرے اللہ توبہ بھلی اب تو ہی بچانا

بہو کہے اپنا گھر کیسا یاں تو اپنے بھی ہیں پرائے

ساس کہے جل بھن کے اسے تو راج محل بھی راس نہ آئے

بہو کہے جس کے ہاتھوں ہے ڈوئی اسی کا سب کوئی ہے

ساس پکارے جاؤ جی جاؤ پاؤں کی جوتی سر پہ چڑھی ہے

بہو کہے مجھ جنم جلی کو کس کے پلے باندھ دیا ہے

ساس کہے اب کون بتائے آگے جو آیا ہے کس کا کیا ہے

بہو کہے یہ پوت کی دردی بس جو چلے تو بس ہی کھلا دے

ساس کہے وہ بات ہے اپنی گالی سنے اور پھر بھی دعا دے

بہو کہے اب سر پہ پڑی ہے جیسے بھی ہو گزر جائے گی

ساس کہے جب دیکھو اس کو دودھ ملیدہ ہی کھائے گی

بہو کہے جی جو آتا تھا ساس کے سامنے بول رہی تھی

ساس بھی لیکن ترکی بہ ترکی بھید بہو کے کھول رہی تھی

ننھے نے یہ موقع تاڑا جھٹ باورچی خانے پہنچا

دودھ پہ آئی تھی جو ملائی چپکے سے اس کو کھانے پہنچا

کھا کے جو لوٹا راہ میں اس نے کالی بلی جاتے پائی

دیکھ کے اس کو ڈر کے مارے زور کی اس نے چیخ لگائی

ایک ہی چیخ نے اس کی پل میں ساس بہو کا جھگڑا چکایا

دوڑی بہو مرے لال ہوا کیا ساس پکاری ہائے خدایا

About Meeraji (میراجی)

میراجی (1912 – 1949) اردو کے جدید شاعر تھے جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا۔ وہ لاہور سے تعلق رکھتے تھے اور آزاد نظم اور علامتی شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

Read all poetry by Meeraji

More Urdu poetry by Meeraji