Prof. Syed Mujahid Sajjad

اوس کی بوندوں میں نمکینی نہیں

میراجی

کلیاتِ میراجی

Published 14 October 2026

اوس کی بوندوں میں نمکینی نہیں

پھول گر چاہے کہ اپنی رات کے انجام کو

ایک ہی لمحے میں یکسر جان لے

اس کو لازم ہے ہوا کے سرد جھونکے سے کہے

جاؤ اس کے آنسوؤں کو چوم لو

آنسوؤں کو چوم کر محسوس یہ ہونے لگا

ایک آنسو ایک بوند

ایک پل میں ایک بحر نیلگوں

بن کے چھا جاتا ہے تنہا ناؤ پر

کیا ہوا گر اوس کی بوندوں میں نمکینی نہیں

اوس کی بوندوں میں نمکینی اگر ہوتی تو کیا

پھول اس میں تیرتے ہی تیرتے

اپنی منزل تک پہنچ سکتا نہ تھا اک ناؤ بن سکتا نہ تھا

پھول کیا ہے تو کہ میں

پھول میں ہوں تو نہیں

تو تو بحر نیلگوں میں ایک تنہا ناؤ ہے

بہتی جاتی ہے ذرا رکتی نہیں

تجھ کو یہ معلوم کب ہے اوس کی بوندوں میں نمکینی نہیں

تو فقط باتوں کے بل پر اپنی راتوں کی رسیلی چھاؤں میں

یہ سمجھتی ہے کہ ہر لمحہ اچانک پھیل کر

شش جہت پر دل دھڑکتے ہی میں یوں چھانے لگا

جیسے اک ٹھہراؤ فرقت کی اندھیری رات میں

درد کے ہم دوش لذت کو بھی اکساتا رہے

لے پیالہ تھام لے

اس میں باقی ہے ابھی زہر غم

جس کو پی کر میں بھی اپنی زندگی سے بھاگتا پھرتا رہا

گفتگو سے فائدہ کچھ بھی نہیں لیکن مجھے

ہر اشارا دام ہے الفاظ کا

جس میں طائر پھڑ پھڑاتے چیختے

چیختے ہی چیختے خاموش ہو جاتے ہوئے

جان لیتے ہیں کہ اب وہ رات ہی درماں بنے گی درد کے انبار کا

جس کے بکھرے دامن صد چاک میں

پھول کی بھیگی ہوئی پتی پہ بوندیں اوس کی

ساتھ لاتی ہیں گداز روح کی ہلکی ملاحت کو جسے

چکھ کے کہتی ہے زباں کیوں اب کہو

اوس کی بوندوں میں نمکینی نہیں

دیکھ دور

ایک تنہا ناؤ بحر نیلگوں پہ رفتہ رفتہ بڑھتے بڑھتے آ رہی ہے پاس دیکھ

دور کی چیزیں بھی یوں

باتوں باتوں میں قریب آ جائیں گی کیا تھی خبر

دیکھ تو

رشتۂ عہد تخیل بند تھا

کھلنے لگا

رفتہ رفتہ اک نئی صورت نظر آنے لگی

اک نئی صورت مگر کچھ نقش تو مانوس ہیں

اور ہر لمحے سے ہر آنسو سے قصر نیلگوں استادہ ہے

دور اس کی چھت میں دو فانوس ہیں

About Meeraji (میراجی)

میراجی (1912 – 1949) اردو کے جدید شاعر تھے جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا۔ وہ لاہور سے تعلق رکھتے تھے اور آزاد نظم اور علامتی شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

Read all poetry by Meeraji

More Urdu poetry by Meeraji