Prof. Syed Mujahid Sajjad

میں یہ چاہتی ہوں کہ دنیا کی آنکھیں مجھے دیکھتی جائیں یوں دیکھتی جائیں جیسے

میراجی

کلیاتِ میراجی

Published 14 October 2026

میں یہ چاہتی ہوں کہ دنیا کی آنکھیں مجھے دیکھتی جائیں یوں دیکھتی جائیں جیسے

کوئی پیڑ کی نرم ٹہنی کو دیکھے

لچکتی ہوئی نرم ٹہنی کو دیکھے

مگر بوجھ پتوں کا اترے ہوئے پیرہن کی طرح سچ کے ساتھ ہی فرش پر ایک مسلا ہوا

ڈھیر بن کر پڑا ہو

میں یہ چاہتی ہوں کہ جھونکے ہوا کے لپٹتے چلے جائیں مجھ سے

مچلتے ہوئے چھیڑ کرتے ہوئے ہنستے ہنستے کوئی بات کہتے ہوئے لاج کے بوجھ

سے رکتے رکتے سنبھلتے ہوئے رس کی رنگین سرگوشیوں میں

میں یہ چاہتی ہوں کبھی چلتے چلتے کبھی دوڑتے دوڑتے بڑھتی جاؤں

ہوا جیسے ندی کی لہروں سے چھوتے ہوئے سرسراتے ہوئے بہتی جاتی ہے رکتی

نہیں ہے

اگر کوئی پنچھی سہانی صدا میں کہیں گیت گائے

تو آواز کی گرم لہریں مرے جسم سے آ کے ٹکرائیں اور لوٹ جائیں ٹھہرنے نہ پائیں

کبھی گرم کرنیں کبھی نرم جھونکے

کبھی میٹھی میٹھی فسوں ساز باتیں

کبھی کچھ کبھی کچھ نئے سے نیا رنگ ابھرے

ابھرتے ہی تحلیل ہو جائے پھیلی فضا میں

کوئی چیز میرے مسرت کے گھیرے میں رکنے نہ پائے

مسرت کا گھیرا سمٹتا چلا جا رہا ہے

کھلا کھیت گندم کا پھیلا ہوا ہے

بہت دور آکاش کا شامیانہ انوکھی مسہری بنائے رسیلے اشاروں سے بہکا رہا ہے

تھپیڑوں سے پانی کی آواز پنچھی کے گیتوں میں گھل کر پھسلتے ہوئے اب نگاہوں سے اوجھل ہوئی جا رہی ہے

میں بیٹھی ہوئی ہوں

دوپٹا میرے سر سے ڈھلکا ہوا ہے

مجھے دھیان آتا نہیں ہے مرے گیسوؤں کو کوئی دیکھ لے گا

مسرت کا گھیرا سمٹتا چلا جا رہا ہے

بس اب اور کوئی نئی چیز میرے مسرت کے گھیرے میں آنے نہ پائے

About Meeraji (میراجی)

میراجی (1912 – 1949) اردو کے جدید شاعر تھے جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا۔ وہ لاہور سے تعلق رکھتے تھے اور آزاد نظم اور علامتی شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

Read all poetry by Meeraji

More Urdu poetry by Meeraji