Prof. Syed Mujahid Sajjad

رات اندھیری بن ہے سونا کوئی نہیں ہے ساتھ

میراجی

کلیاتِ میراجی

Published 14 October 2026

رات اندھیری بن ہے سونا کوئی نہیں ہے ساتھ

پون جھکولے پیڑ ہلائیں تھر تھر کانپیں پات

دل میں ڈر کا تیر چبھا ہے سینے پر ہے ہاتھ

رہ رہ کر سوچوں یوں کیسے پوری ہوگی رات

برکھا رت ہے اور جوانی لہروں کا طوفان

پیتم ہے نادان مرا دل رسموں سے انجان

کوئی نہیں جو بات سجھائے کیسے ہوں سامان

بھگون مجھ کو راہ دکھا دے مجھ کو دے دے گیان

چپو ٹوٹے ناؤ پرانی دور ہے کھیون ہار

بیری ہیں ندی کی موجیں اور پیتم اس پار

سن لے سن کے دکھ میں پکارے اک پریمی بچارا

کیسے جاؤں کیسے پہنچوں کیسے جتاؤں پیار

کیسے اپنے دل سے مٹاؤں برہ اگن کا روگ

کیسے سجھاؤں پریم پہیلی کیسے کروں سنجوگ

بات کی گھڑیاں بیت نہ جایں دور ہے اس کا دیس

دور دیس ہے پیتم کا اور میں بدلے ہوں بھیس

About Meeraji (میراجی)

میراجی (1912 – 1949) اردو کے جدید شاعر تھے جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا۔ وہ لاہور سے تعلق رکھتے تھے اور آزاد نظم اور علامتی شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

Read all poetry by Meeraji

More Urdu poetry by Meeraji