Prof. Syed Mujahid Sajjad

سمٹ کر کس لیے نقطہ نہیں بنتی زمیں کہہ دو

میراجی

کلیاتِ میراجی

Published 14 October 2026

سمٹ کر کس لیے نقطہ نہیں بنتی زمیں کہہ دو

یہ پھیلا آسماں اس وقت کیوں دل کو لبھاتا تھا

ہر اک سمت اب انوکھے لوگ ہیں اور ان کی باتیں ہیں

کوئی دل سے پھسل جاتی کوئی سینہ میں چبھ جاتی

انہی باتوں کی لہروں پر بہا جاتا ہے یہ بجرا

جسے ساحل نہیں ملتا

میں جس کے سامنے آؤں مجھے لازم ہے ہلکی مسکراہٹ میں کہیں یہ ہونٹ تم کو

جانتا ہوں دل کہے 'کب چاہتا ہوں میں'

انہی لہروں پہ بہتا ہوں مجھے ساحل نہیں ملتا

سمٹ کر کس لیے نقطہ نہیں بنتی زمیں کہہ دو

وہ کیسی مسکراہٹ تھی بہن کی مسکراہٹ تھی، میرا بھائی بھی ہنستا تھا

وہ ہنستا تھا بہن ہنستی ہے اپنے دل میں کہتی ہے

یہ کیسی بات بھائی نے کہی دیکھو وہ اماں اور ابا کو ہنسی آئی

مگر یوں وقت بہتا ہے تماشا بن گیا ساحل

مجھے ساحل نہیں ملتا

سمٹ کر کس لیے نقطہ نہیں بنتی زمیں کہہ دو

یہ کیسا پھیر ہے تقدیر کا یہ پھیر تو شاید نہیں لیکن

یہ پھیلا آسماں اس وقت کیوں دل کو لبھاتا ہے

حیات مختصر سب کی بہی جاتی ہے اور میں بھی

ہر اک کو دیکھتا ہوں مسکراتا ہے کہ ہنستا ہے

کوئی ہنستا نظر آئے کوئی روتا نظر آئے

میں سب کو دیکھتا ہوں دیکھ کر خاموش رہتا ہوں

مجھے ساحل نہیں ملتا

About Meeraji (میراجی)

میراجی (1912 – 1949) اردو کے جدید شاعر تھے جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا۔ وہ لاہور سے تعلق رکھتے تھے اور آزاد نظم اور علامتی شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

Read all poetry by Meeraji

More Urdu poetry by Meeraji