Prof. Syed Mujahid Sajjad

میں جنسی کھیل کو صرف اک تن آسانی سمجھتا ہوں

میراجی

کلیاتِ میراجی

Published 14 October 2026

میں جنسی کھیل کو صرف اک تن آسانی سمجھتا ہوں

ذریعہ اور ہے معبود سے ملنے کا دنیا میں

تخیل کا بڑا ساگر تصور کے حسیں جھونکے

لیے آتے ہیں بارش میں تمنائیں عبادت کی

مگر پوری نہیں ہوتی تمنا دل کی چاہت کی

کسی عورت کا پیراہن کسی خلوت کی خوشبوئیں

کسی اک لفظ بے معنی کی میٹھی میٹھی سرگوشی

یہی چیزیں مرے غمگیں خیالوں پر ہمیشہ چھائی رہتی ہیں

عبادت کا طریقہ حرکتیں ہیں تشنہ و مبہم

کبھی روح صنم بیدار خواب مرگ مہمل سے

کسی اندر سبھا کی لاکھ پریاں آ کے بہلائیں

لبھاتے ناچ ناچیں اور رسیلے راگ بھی گائیں

مگر یہ مردہ دل عادی ہے بس غمگیں خیالوں کا

گھٹا آتی نہیں خوشیوں کی بارش لا نہیں سکتی

مری روح حزیں محکوم ہے اپنے تأثر کی

ذریعہ اور ہے معبود سے ملنے کا دنیا میں

میں جنسی کھیل کو کیوں اک تن آسانی سمجھتا ہوں

کبھی انساں کی عمر مختصر پر غور کرتا ہوں

کبھی فانی تمناؤں کی جھیلوں میں یوں ہی کھویا سا پھرتا ہوں

About Meeraji (میراجی)

میراجی (1912 – 1949) اردو کے جدید شاعر تھے جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا۔ وہ لاہور سے تعلق رکھتے تھے اور آزاد نظم اور علامتی شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

Read all poetry by Meeraji

More Urdu poetry by Meeraji