Prof. Syed Mujahid Sajjad

میں کہتا ہوں تم سے اگر شام کو بھول کر بھی کسی نے کبھی کوئی دھندلا ستارہ نہ دیکھا

میراجی

کلیاتِ میراجی

Published 14 October 2026

میں کہتا ہوں تم سے اگر شام کو بھول کر بھی کسی نے کبھی کوئی دھندلا ستارہ نہ دیکھا

تو اس پر تعجب نہیں ہے نہ ہوگا

ازل سے اسی ڈھب کی پابند ہے شام کی ظاہرا بے ضرر شوخ ناگن

ابھرتے ہوئے اور لچکتے ہوئے اور مچلتے ہوئے کہتی جاتی ہے آؤ مجھے دیکھو میں نے

تمہارے لیے ایک رنگین محفل جمائی ہوئی ہے

انوکھا سا ایوان ہے ہر طرف جس میں پردے گرے ہیں وہاں جو بھی ہو اس کو

کوئی نہیں دیکھ سکتا

تہیں اس کے پردوں کی ایسے لچکتی چلی جاتی ہیں جیسے پھیلی ہوئی سطح دریا نے

اٹھ کر دھندلکے کی مانند پنہاں کیا ہو فضا کو نظر سے

ذرا دیکھو چھت پر لٹکتے ہیں فانوس اپنی ہر اک نیم روشن کرن سے سجھاتے

ہیں اک بھید کی بات کا گیت جس میں مسہری کے آغوش کی لرزشیں ہوں

ستونوں کے پیچھے سے آہستہ آہستہ رکتا ہوا اور جھجکتا ہوا چور سایہ یہی کہہ رہا

ہے وہ آئے وہ آئے

ابھی ایک پل میں اچانک یونہی جگمگانے لگے گا یہ ایوان یکسر

ہر اک چیز کیسے قرینے سے رکھی ہوئی ہے

میں کہتی ہوں مانو چلو آؤ محفل سجی ہے

تم آؤ تو گونج اٹھے شہنائی دالان میں آنے جانے کی آہٹ سے ہنگامہ پیدا

ہو لیکن مسہری کے آغوش کی لرزشوں میں تمہیں اس کا احساس

بھی ہونے پائے تو ذمہ ہے میرا

ازل سے اس ڈھب کی پابند ہے موج بیتاب اس کو خبر بھی نہ ہوگی کہ اک شاخ نازک

نے بے باک جھونکے سے ٹکرا کے آہیں بھری تھیں

مگر میں یہ کہتا ہوں تم سے اگر شاد کو بھول کر بھی کسی نے کبھی کوئی دھندلا ستارہ

نہ دیکھا تو اس پر تعجب نہیں ہے

ازل سے اسی ڈھب کی پابند ہے شام کی شوخ ناگن

یہ ڈستی ہے ڈستے ہوئے کہتی جاتی ہے

جاؤ اگر تم جھجکتے رہوگے تو

ہر لمحہ یکساں روش سے گزر جائے گا اور تم دیکھتے ہی رہوگے اکیلے اکیلے

تمہیں دائیں بائیں تمہیں سامنے کچھ دکھائی نہ دے گا فقط سرد دیواریں ہنستی رہیں گی

مگر ان کا ہنسنا بھی آہستہ آہستہ بیتے زمانے کی مانند اک دور کی بات معلوم ہونے لگے گا

دھندلکے میں ڈوبی ہوئی آنکھ دیکھے گی روزن سے دور اک ستارہ نظر آ رہا ہے

مگر چھت پہ فانوس کا کوئی جھولا نہ ہوگا

شکستہ فتادہ ستونوں کی مانند فرش حزیں پر تمہارا وہ سایہ تڑپتا رہے گا جسے

یہ تمنا تھی کہہ دوں تمنا کیا تھی

بس اب اپنی غم ناک باتوں کو اپنے ابھرتے ہوئے اور بدلتے ہوئے رنگ میں تو چھپا لے

میں اب مانتا ہوں کہ تو نے روانی میں اپنی بہت دور روزن سے دھندلے

ستارے بھی دیکھے ہیں لاکھوں

میں اب مانتا ہوں مری آنکھ میں ایک آنسو جھلکتا چلا جا رہا ہے ٹپکتا نہیں ہے

میں اب مانتا ہوں مجھے دائیں بائیں مجھے سامنے کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہے فقط

سرد دیواریں ہنستی چلی جا رہی ہیں

میں اب مانتا ہوں کہ میں نے اس ایوان کو آج تک اپنے خوابوں میں دیکھا ہے لیکن

وہاں کوئی بھی چیز ایسے قرینے سے رکھی نہیں ہے

کہ جیسے بتایا ہے تو نے تری ایک رنگین محفل سجی ہے

مسہری کے آغوش کی لرزشوں کا مجھے خواب بھی اب نہ آئے گا میں اپنے

کانوں سے کیسے سنوں گا وہ شہنائی کی گونج سیندور

کا سرخ نغمہ جسے سن کے دالان میں آنے جانے کی آہٹ

سے ہنگامہ ہو جاتا ہے ایک پل کو

مجھے تو فقط سرد دیواریں ہنستی سنائی دیے جا رہی ہیں

About Meeraji (میراجی)

میراجی (1912 – 1949) اردو کے جدید شاعر تھے جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا۔ وہ لاہور سے تعلق رکھتے تھے اور آزاد نظم اور علامتی شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

Read all poetry by Meeraji

More Urdu poetry by Meeraji