Prof. Syed Mujahid Sajjad

لرز لرز کر دمک رہے ہیں

میراجی

کلیاتِ میراجی

Published 14 October 2026

لرز لرز کر دمک رہے ہیں

مگر جب آئے گا دن کا چیتا

اور ان ستاروں کا وقت بیتا

تو آسمان کے نکیلے جگنو

بنیں گے پل میں ڈھلکتے آنسو

سحر کے پردے میں جا چھپیں گے

میں اور تو آج ہیں اکٹھے

سنا رہی ہے تری جوانی

مجھے مرے عشق کی کہانی

مگر ہے اک خوف سا فضا میں

ہے ایک لرزش سی اس ہوا میں

ستارے اب ٹمٹما رہے ہیں

خزاں کے آثار چھا رہے ہیں

مجھے یہ محسوس ہو رہا ہے

کہ اب ستاروں کا وقت بیتا

بس اب تو آئے گا دن کا چیتا

اب آسمان کے نکیلے جگنو

یہ دست انجم کے پیارے آہو

سحر کے پردے میں جا چھپیں گے

About Meeraji (میراجی)

میراجی (1912 – 1949) اردو کے جدید شاعر تھے جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا۔ وہ لاہور سے تعلق رکھتے تھے اور آزاد نظم اور علامتی شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

Read all poetry by Meeraji

More Urdu poetry by Meeraji