Prof. Syed Mujahid Sajjad

یہ جی چاہتا ہے کہ تم ایک ننھی سی لڑکی ہو اور ہم تمہیں گود میں لے کے اپنی بٹھا لیں

میراجی

کلیاتِ میراجی

Published 14 October 2026

یہ جی چاہتا ہے کہ تم ایک ننھی سی لڑکی ہو اور ہم تمہیں گود میں لے کے اپنی بٹھا لیں

یوں ہی چیخو چلاؤ ہنس دو یوں ہی ہاتھ اٹھاؤ ہوا میں ہلاؤ ہلا کر گرا دو

کبھی ایسے جیسے کوئی بات کہنے لگی ہو

کبھی ایسے جیسے نہ بولیں گے تم سے

کبھی مسکراتے ہوئے شور کرتے ہوئے پھر گلے سے لپٹ کر کرو ایسی باتیں

ہمیں سرسراتی ہوا یاد آئے

جو گنجان پیڑوں کی شاخوں سے ٹکرائے دل کو انوکھی پہیلی بجھائے مگر وہ پہیلی سمجھ میں نہ آئے

کوئی سرد چشمہ ابلتا ہوا اور مچلتا ہوا یاد آئے

جو ہو دیکھنے میں ٹپکتی ہوئی چند بوندیں

مگر اپنی حد سے بڑھے تو بنے ایک ندی بنے ایک دریا بنے ایک ساگر

یہ جی چاہتا ہے کہ ہم ایسے ساگر کی لہروں پہ ایسی ہوا سے بہائیں وہ کشتی جو بہتی نہیں ہے

مسافر کو لیکن بہاتی چلی جاتی ہے اور پلٹ کر نہیں آتی ہے ایک گہرے سکوں سے ملاتی چلی جاتی ہے

یہ جی چاہتا ہے کہ ہم بھی یوں ہی چیخیں چلائیں ہنس دیں یوں ہی ہاتھ اٹھائیں

ہوا میں ہلائیں ہلا کر گرا دیں

کبھی ایسے جیسے کوئی بات کہنے لگے ہیں

مگر تم ہمیں گود میں لے کے اپنی بٹھا لو

مچلنے لگیں تو سنبھالو

کبھی مسکراتے ہوئے شور کرتے ہوئے پھر گلے سے لپٹ کر کریں ایسی باتیں

تمہیں سرسراتی ہوا یاد آئے

وہی سرسراتی ہوا جس کے میٹھے فسوں سے دوپٹہ پھسل جاتا ہے

وہی سرسراتی ہوا جو ہر انجان عورت کے بکھرے ہوئے گیسوؤں کو

کسی سوئے جنگل پہ گنگھور کالی گھٹا کا نیا بھیس دے کر

جگا دیتی ہے

تمہیں سرسراتی ہوا یاد آئے

ہمیں سرسراتی ہوا یاد آئے

یہ جی چاہتا ہے

مگر اپنی حد سے بڑھے تو ہر اک شے بنے ایک ندی بنے ایک دریا بنے ایک ساگر

وہ ساگر جو بہتے مسافر کو آگے بہاتا نہیں ہے جھکولے دئیے جاتا ہے بس

جھکولے دئیے جاتا ہے

اور پھر جی ہی جی میں مسافر یہ کہتا ہے اپنی کہانی نئی تو نہیں ہے

پرانی کہانی میں کیا لطف آئے

ہمیں آج کس نے کہا تھا پرانی کہانی سناؤ

About Meeraji (میراجی)

میراجی (1912 – 1949) اردو کے جدید شاعر تھے جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا۔ وہ لاہور سے تعلق رکھتے تھے اور آزاد نظم اور علامتی شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

Read all poetry by Meeraji

More Urdu poetry by Meeraji