Prof. Syed Mujahid Sajjad

رات کے پھیلے اندھیرے میں کوئی سایہ نہیں

میراجی

کلیاتِ میراجی

Published 14 October 2026

رات کے پھیلے اندھیرے میں کوئی سایہ نہیں

جھلملاتے ہوئے کمزور ستارے یہ کہے جاتے ہیں

چاند آئے گا تو سائے بھی چلے آئیں گے

رات کے پھیلے اندھیرے میں کوئی سایہ نہیں ہوتا ہے

رات اک بات ہے صدیوں کی کئی صدیوں کی

یا کسی پچھلے جنم کی ہوگی

رات کے پھیلے اندھیرے ہیں کوئی سایہ نہ تھا

رات کا پھیلا اندھیرا محتاج

اک بھکاری تھا اسی پہلی کرن کا جو لرزتے ہوئے آتی ہے جگا دیتی ہے

سوئے سایوں کو اٹھا دیتی ہے بیداری میں

زیست کے ہلتے ہوئے جھومتے آثار نظر آتے ہیں

زیست سے پہلے مگر بات کوئی اور ہی تھی

رات کے پھیلے اندھیرے میں کوئی سایہ نہ تھا

چاند کے آنے پہ سائے آئے

اس کے بکھرے ہوئے گیسو سائے

لاج کی میٹھی جھجک بھی سایہ

اور بھی سائے تھے ہلکے گہرے

کالی آنکھوں کی گھنیری پلکیں

اپنے آغوش میں سایوں کو لئے بیٹھی تھیں

اور ان سایوں میں محسوس ہوا کرتا تھا

دل کا غم دل کی خلش دل کی تمنا ہر شے

ایک سایہ ہے لرزتا سایہ

اور مجھے دیکھنے پر اس کی گھنیری چپ چاپ

ایک سایہ ہی نظر آتی تھی

ایسا اک سایہ جو خاموش رہا کرتا ہو

اور اسے دیکھتے ہی میں بھی تو اک سایہ ہی بن جاتا تھا

سایہ خاموش رہا کرتا ہے

اور اک لرزش بیتاب کے ہونے پہ بھی خاموشی ہی

راہ میں میری عناں گیر ہوا کرتی تھی

اس کے بکھرے ہوئے گیسو سائے

لاج کی میٹھی جھجک بھی سایہ

اور بھی سائے تھے ہلکے گہرے

کالی آنکھوں کی گھنیری پلکیں

اپنے آغوش میں سایوں کو لئے بیٹھی تھیں

اور ان سایوں میں محسوس ہوا کرتا تھا

دل کا غم دل کی خلش دل کی تمنا ہر شے

ایک سایہ ہے لرزتا سایہ

اور مجھے دیکھنے پر اس کی گھنیری چپ چاپ

ایک سایہ ہی نظر آتی تھی

ایسا اک سایہ جو خاموش رہا کرتا ہو

اور اسے دیکھتے ہی میں بھی تو اک سایہ ہی بن جاتا تھا

سایہ خاموش رہا کرتا ہے

اور اک لرزش بیتاب کے ہونے پر بھی خاموشی ہی

راہ میں میری عناں گیر ہوا کرتی تھی

سیدھا جاتا ہوا رستہ بھی تو اک سایہ تھا

اس پہ آتے ہوئے جاتے ہوئے انسان تمام

دھندلے سائے تھے مگر سائے تھے

میں بھی جاتا ہوا آتا ہوا اک سایہ تھا

میں بھی اک سایہ تھا کس کا سایہ

کس کے قدموں سے لپٹتے ہوئے چپ چاپ چلا جاتا تھا

کہہ تو دوں دل میں یہ غم ناک خیال آتا ہے

سایہ خاموش رہا کرتا ہے

رات کے سائے ہی خاموش رہا کرتے ہیں

دن کے سائے تو کہا کرتے ہیں

بیتی لذت کی کہانی سے

اور مری مستی بھی اب دن کا ہی اک سایہ ہے

جس کے ایک کنارے کو شعاع سوزاں

اپنی شدت سے جلانے پہ مٹانے پہ تلی بیٹھی ہے

کاش آ جائے گھٹا چھائے گھٹا اور بن جائے

چڑھتے سورج کا زوال

چڑھتا سورج یہ بتا دیتا ہے

بڑھتے سائے ہیں کسی کے غماز

بہتے بہتے یہ کہے جاتے ہیں

رات کے جاگے ہوئے سوئے ہوئے اٹھے ہیں

دھوپ کھاتے ہوئے لٹکے لٹکے

جب کوئی پیرہن آویزاں

ایک جھونکے سے لرز اٹھتا ہے

ہم نوائی کو لرزتا ہوا سایہ بھی کہے جاتا ہے

بیتی لذت کی کہانی سب سے

بیتی لذت بھی مرے واسطے اک سایہ ہے

کسی سورج کے تلے آتے ہوئے بادل کا

سرسراتے ہوئے جھونکے کی طرح آتا ہوا جاتا ہوا

باتیں کرنے کو وہ اک پل بھی نہیں رکتا تھا

دن کا سایہ تھا اسے رات کی اک بات بھی معلوم نہ تھی

رات اک بات ہے صدیوں کی کئی صدیوں کی

اور اب دن ہے مجھے سائے نظر آتے ہیں

بولتے سائے نظر آتے ہیں

جانے پہچانے ہیں پھر بھی نئے مفہوم سمجھاتے ہیں سمجھاتے ہی چلے جاتے ہیں

پھر پلٹ آتے ہیں

جیسے میں جاتا تھا اور جا کے پلٹ آتا تھا

اسی رستے پہ جو اک سایہ تھا

راستہ آج بھی سایہ ہے مگر اک نیا سایہ ہے

راہ میں ایک مکان

وہ بھی سایہ ہے اداسی کا گھنیرا سنسان

راہ میں آتی ہوئی ہر مورت

ایک سایہ ہے چڑیل

حور کا اس میں کوئی عکس نظر آتا نہیں

دیکھتے ہی جسے میں کانپ اٹھا کرتا ہوں

آنکھوں میں خون اتر آتا ہے

سامنے دھند سی چھا جاتی ہے

دل دھڑکتا ہی چلا جاتا ہے

اور میں دیکھتا ہوں

سائے ملتے ہوئے گھلتے ہوئے کچھ بھوت سے بن جاتے ہیں

ہنہناتے ہوئے ہنستے ہیں پکار اٹھتے ہیں

دل میں کیا دھیان یہی ہے اب بھی

دل میں کیا دھیان یہی ہے اب بھی

سایہ خاموش رہا کرتا ہے

دیکھ ہم بولتے ہیں بولتے سائے ہیں تمام

ہم سے بچ تو کہاں جائے گا

اور میں کانپ اٹھا کرتا ہوں

اور وہ بولتے ہیں

کانپ اٹھا ہے لرزتا ہے یہ بزدل ناکام

بات کرتا ہی نہیں ہے کوئی

اب بھی شاید یہ سمجھتا ہے لرزتے دل میں

سایہ خاموش رہا کرتا ہے

About Meeraji (میراجی)

میراجی (1912 – 1949) اردو کے جدید شاعر تھے جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا۔ وہ لاہور سے تعلق رکھتے تھے اور آزاد نظم اور علامتی شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

Read all poetry by Meeraji

More Urdu poetry by Meeraji