Prof. Syed Mujahid Sajjad

جس شخص کے ملبوس کی قسمت میں لکھی ہے

میراجی

کلیاتِ میراجی

Published 14 October 2026

جس شخص کے ملبوس کی قسمت میں لکھی ہے

کرنوں کی تمازت

رشک آتا ہے مجھ کو

اس پر

کیوں صرف اچھوتا

انجان انوکھا

اک خواب ہے خلوت

کیوں صرف تصور

بہلاتا ہے مجھ کو

کیوں صبح شب عیش کا جھونکا

بن کر

رخسار کے بے نام اذیت

سہلاتا ہے مجھ کو؟

کیوں خواب فسوں گر کی قبا چاک نہیں ہے

کیوں گیسوئے پیچیدہ و رقصاں

نمناک نہیں ہے

اشک دل خوں سے

کیوں لمس کی حسرت کے جنوں سے

ملتی نہیں مجھ کو

بے قید رہائی

ملبوس پہ کرنوں کی تمازت

ہے دام نظر کا

اور صبح شب عیش کو گیسو کا مہکتا ہوا جھونکا

مرہون سحر کا

ہوتا ہی نہیں ہے

کیوں دھوئے نہ پیراہن آلودہ کے دھبے

مخمور مسرت

کرنوں کی تمازت

بن جائے نہ کیوں رنگ شب عیش کا اک عکس مسلسل

مجبور اذیت

تو مان لے اس عکس کا منظر

دیتا ہے تجھے جام چشیدہ کی سی لذت

کیوں سوچ رہا ہے

جھوٹا ہے یہ پیالہ

کیا آج زمانے میں کہیں دیکھی ہے تو نے

دوشیزہ مسرت؟

پھیلے ہوئے ملبوس پہ کرنوں کی تمازت

ہے زیست کے گیسو کی حرارت

اس شخص کو پیراہن آلودہ کے دھونے ہی سے روزی

ملتی ہے جہاں میں

تو اس پہ نظر کر

About Meeraji (میراجی)

میراجی (1912 – 1949) اردو کے جدید شاعر تھے جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا۔ وہ لاہور سے تعلق رکھتے تھے اور آزاد نظم اور علامتی شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

Read all poetry by Meeraji

More Urdu poetry by Meeraji