Prof. Syed Mujahid Sajjad

بس دیکھا اور پھر بھول گئے

میراجی

کلیاتِ میراجی

Published 14 October 2026

بس دیکھا اور پھر بھول گئے

جب حسن نگاہوں میں آیا

من ساگر میں طوفان اٹھا

طوفان کو چنچل دیکھ ڈری آکاش کی گنگا دودھ بھری

اور چاند چھپا تارے سوئے طوفان مٹا ہر بات گئی

دل بھول گیا پہلی پوجا من مندر کی مورت ٹوٹی

دن لایا باتیں انجانی پھر دن بھی نیا اور رات نئی

پیتم بھی نئی پریمی بھی نیا سکھ سیج نئی ہر بات نئی

اک پل کو آئی نگاہوں میں جھلمل کرتی پہلی

سندرتا اور پھر بھول گئے

مت جانو ہمیں تم ہرجائی

ہرجائی کیوں کیسے کیسے

کیا داد جو اک لمحے کی ہو وہ داد نہیں کہلائے گی

جو بات ہو دل کی آنکھوں کی

تم اس کو ہوس کیوں کہتے ہو

جتنی بھی جہاں ہو جلوہ گری اس سے دل کو گرمانے دو

جب تک ہے زمیں

جب تک ہے زماں

یہ حسن و نمائش جاری ہے

اس ایک جھلک کو چھچھلتی نظر سے دیکھ کے جی بھر لینے دو

ہم اس دنیا کے مسافر ہیں

اور قافلہ ہے ہر آن رواں

ہر بستی ہر جنگل صحرا اور روپ منوہر پربت کا

اک لمحہ من کو لبھائے گا اک لمحہ نظر میں آئے گا

ہر منظر ہر انساں کی دیا اور میٹھا جادو عورت کا

اک پل کو ہمارے بس میں ہے پل بیتا سب مٹ جائے گا

اس ایک جھلک کو چھچھلتی نظر سے دیکھ کے جی بھر لینے دو

تم اس کو ہوس کیوں کہتے ہو

کیا داد جو اک لمحے کی ہو وہ داد نہیں کہلائے گی

ہے چاند فلک پر اک لمحہ

اور اک لمحہ یہ ستارے ہیں

اور عمر کا عرصہ بھی سوچو اک لمحہ ہے

About Meeraji (میراجی)

میراجی (1912 – 1949) اردو کے جدید شاعر تھے جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا۔ وہ لاہور سے تعلق رکھتے تھے اور آزاد نظم اور علامتی شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

Read all poetry by Meeraji

More Urdu poetry by Meeraji