Prof. Syed Mujahid Sajjad

زندگی محبوب ہے پھر بھی دعائیں موت کی

میراجی

کلیاتِ میراجی

Published 14 October 2026

زندگی محبوب ہے پھر بھی دعائیں موت کی

مانگتا ہے دل مرا دن رات کیوں

قسمت غم گیں کے ہونٹوں پر کبھی

آ نہیں سکتی خوشی کی بات کیوں

کیوں نگاہوں پر مری چھائے ہیں آنسو کے نقاب

اس سوال مستقل کا کیوں نہیں ملتا جواب

کیا خودی کی الجھنیں میرے ارادے توڑ کر

کر رہی ہیں مجھ کو اس دنیا میں ناکام حیات

کیوں نہیں آتی وہ رات

جس کی خرم تر سحر

آرزو ہے مجھ سے ہو اب ہم کلام

راحتیں معدوم ہیں میرے تخیل سے تمام

راستہ مجھ کو نظر آتا نہیں

راستہ مجھ کو خوشی کا کیوں نظر آتا نہیں

چل مرے دل آج اس محدود خلوت سے نکل

ہاں سنبھل قعر خموشی میں نہ گر ہاں اب سنبھل

بے خودی مسلک بنا لے بھول جا سب آج کل

چھوڑ دے مرکز کی چاہت مضطرب ہو اور مچل

سینۂ آتش فشاں کی طرح گرمی سے ابل

چل مرے دل راستہ خوشیوں کا دیکھ

اور شعلہ عیش کے لمحوں کا دیکھ

دل گرفتہ آنسوؤں کو خشک کر

دیکھ رستہ آنسوؤں کو خشک کر

چھوڑ دے مرکز کی چاہت مضطرب ہو اور مچل

چل مرے دل آج اس محدود خلوت سے نکل

About Meeraji (میراجی)

میراجی (1912 – 1949) اردو کے جدید شاعر تھے جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا۔ وہ لاہور سے تعلق رکھتے تھے اور آزاد نظم اور علامتی شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

Read all poetry by Meeraji

More Urdu poetry by Meeraji