Prof. Syed Mujahid Sajjad

ہوا کے جھونکے ادھر جو آئیں تو ان سے کہنا

میراجی

کلیاتِ میراجی

Published 14 October 2026

ہوا کے جھونکے ادھر جو آئیں تو ان سے کہنا

یہاں کوئی ایسی شے نہیں جسے وہ لے جائیں ساتھ اپنے

یہاں کوئی ایسی شے نہیں جسے کوئی دیکھ کر یہ سوچے

کہ یہ ہمارے بھی پاس ہوتی

یہاں کوئی راہ رو نہیں ہے نہ کوئی منزل

یہاں اندھیرا نہیں اجالا نہیں کوئی شے نہیں ہے

گزرتے لمحوں کے آتشیں پاؤں اس جگہ پے بہ پے رواں ہیں

ہر ایک شے کو سجھاتے جاتے ہر ایک شے کو جلاتے جاتے مٹاتے جاتے

ہر ایک شے کو سجھاتے جاتے کہ کچھ نہیں ہست سے بھی حاصل

ہوا کے جھونکے ادھر جو آئیں تو ان سے کہنا

یہ سب معابد یہ شہر گاؤں

فسانۂ زیست کے نشاں ہیں

مگر ہر اک در پہ جا کے دیکھا ہر ایک دیوار روند ڈالی ہر ایک روزن کو دل سمجھ کر

یہ بھید جانا

گزرتے لمحوں کے آتشیں پاؤں ہر جگہ پے بہ پے رواں ہیں

کہیں مٹاتے کہیں مٹانے کے واسطے نقش نو بناتے

حیات رفتہ حیات آئندہ سے ملے گی یہ کون جانے

ہوا کے جھونکے ادھر جو آئیں تو ان سے کہنا

ہر جگہ دام دوریوں کا بچھا ہوا ہے

ہر اک جگہ وقت ایک عفریت کی طرح یوں کھڑا ہوا ہے

کہ جیسے وہ کائنات کا عکس بے کراں ہو

کبھی فریب خیال بن کر کبھی کبھی بھول کر شعور جمال بن کر

شکار کی ناتواں نظر کو سجھا رہا ہے

ہر ایک شے سے مرا نشان عدم عیاں ہے

عدم بھی دریوزہ گر ہے میرا مرے ہی بل پر رواں دواں ہے

ہوا کے جھونکے ادھر جو آئیں تو ان سے کہنا

فسانۂ زیست کا جھلستا ہوا اجالا بھی مٹ چکا ہے

مگر ہو مٹ کر کوئی اندھیرا نہیں بنا ہے

کہ اس جگہ تو کوئی اندھیرا نہیں اجالا نہیں یہاں کوئی شے نہیں ہے

About Meeraji (میراجی)

میراجی (1912 – 1949) اردو کے جدید شاعر تھے جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا۔ وہ لاہور سے تعلق رکھتے تھے اور آزاد نظم اور علامتی شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

Read all poetry by Meeraji

More Urdu poetry by Meeraji