تمنا کے ژولیدہ تار
کلیاتِ راشد
Published 14 October 2026
تمنا کے ژولیدہ تار
گرہ در گرہ ہیں تمنا کے نادیدہ تار
ستاروں سے اترے ہیں کچھ لوگ رات
وہ کہتے ہیں اپنی تمنا کے ژولیدہ تاروں کو سلجھاؤ
سلجھاؤ اپنی تمنا کے ژولیدہ تار
ستاروں کی کرنوں کی مانند سلجھاؤ
مبادا ستاروں سے برسیں وہ تیر
کہ رہ جائے باقی تمنا نہ تار
تمنا کے ژولیدہ تار
ستاروں سے اترے ہوئے راہگیر
کہ ہے نور ہی نور جن کا خمیر
تمنا سے واقف نہیں نہ ان پر عیاں
تمنا کے تاروں کی ژولیدگی ہی کا راز
تمنا ہمارے جہاں کی جہان فنا کی متاع عزیز
مگر یہ ستاروں سے اترے ہوئے لوگ
سر رشتہ ناگزیر ابد میں اسیر
ہم ان سے یہ کہتے ہیں اے اہل مریخ
جانے وہ کن کن ستاروں سے ہیں
ادب سے خوشامد سے کہتے ہیں اے محترم اہل مریخ
کیا تم نہیں دیکھتے ان تمنا کے ژولیدہ تاروں کے رنگ
مگر ان کو شاید کہ رنگوں سے رغبت نہیں
کہ رنگوں کی ان کو فراست نہیں
ہے رنگوں کے بارے میں ان کا خیال اور
ان کا فراق و وصال اور
ان کے مہ و سال اور
بڑی سادگی سے یہ کہتے ہیں ہم
محترم اہل مریخ دیکھے نہیں
کبھی تم نے ژولیدہ باہوں کے رنگ
محبت میں سر خوش نگاہوں کے رنگ
گناہوں کے رنگ
About N. M. Rashid (ن م راشد)
ن م راشد (1910 – 1975) جدید اردو نظم کے اہم شاعر تھے۔ ماں کی یاد، حسنِ کوثر اور لامسہ ان کے مجموعے ہیں اور وہ آزاد نظم کے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by N. M. Rashid
- رات میں خواب بھی تھے (Poem)
- اے غزال شب (Poem)
- زمستاں کی اس شام (Poem)
- آ لگی ہے ریت دیواروں کے ساتھ (Poem)