رات میں خواب بھی تھے
کلیاتِ راشد
Published 14 October 2026
رات میں خواب بھی تھے
رات جب باغ کے ہونٹوں پہ تبسم نہ رہا
رات جب باغ کی آنکھوں میں
تماشا کا تکلم نہ رہا
غنچے کہنے لگے
رکنا ہے ہمیں باغ میں لا سال ابھی
صبح جب آئی تو لا سال کے
جاں کاہ معما کا فسوں بھی ٹوٹا
صبح کے نام سے اب غنچے بہت ڈرتے ہیں
صبح کے ہاتھ میں
جراح کے نشتر سے بہت ڈرتے ہیں
وہ جو غنچوں کے مہ و سال کی کوتاہی میں
ایک لمحہ تھا بہت ہی روشن
وہی اب ان کے پگھلتے ہوئے جسموں میں
گل تازہ کے بہروپ میں
کن زخموں سے دلگیر ہے آشفتہ ہے
رات میں خواب بھی تھے
خوابوں کی تعبیر بھی تھی
صبح سے غنچے بہت ڈرتے ہیں
غنچے خوش تھے کہ یہ پھول
ہو بہو ان کے خد و خال لیے
ان کا رنگ ان کی طلب
ان کے پر و بال لیے
ان کے خاموش تبسم ہی کی پنہائی میں
کیا خبر تھی انہیں وہ کیسے سمندر سے
ہوئے ہیں خالی
جیسے اک ٹوٹے ہوئے دانت سے
یہ ساری چٹانیں اٹھیں
جیسے اک بھولے ہوئے قہقہے سے
سارے ستارے ابھرے
جیسے اک دانۂ انگور سے
افسانوں کا سیلاب اٹھا
جیسے اک بوسے کے منشور سے
دریا جاگے
اور اک درد کی فریاد سے
انساں پھیلے
انہیں ان غنچوں کو امید تھی
وہ پھول بھی ان کے مانند
ان کی خود فہمی کی جویائی سے
پیدا ہوں گے
ان کے اس وعدۂ مبرم ہی کا
ایفا ہوں گے
پھول جو اپنے ہی وہموں کے تکبر کے سوا
کچھ بھی نہیں
ان کی ان غنچوں کی
دلگیر صدا سنتے ہیں
ہنس دیتے ہیں
About N. M. Rashid (ن م راشد)
ن م راشد (1910 – 1975) جدید اردو نظم کے اہم شاعر تھے۔ ماں کی یاد، حسنِ کوثر اور لامسہ ان کے مجموعے ہیں اور وہ آزاد نظم کے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by N. M. Rashid
- اے غزال شب (Poem)
- زمستاں کی اس شام (Poem)
- آ لگی ہے ریت دیواروں کے ساتھ (Poem)
- بیٹھا ہوا ہوں صبح سے لارنس باغ میں (Poem)