زمستاں کی اس شام
کلیاتِ راشد
Published 14 October 2026
زمستاں کی اس شام
نیچے خیاباں میں
میرے دریچے کے پائیں
جہاں تیرگی منجمد ہو گئی ہے
یہ بھاری یخ آلود قدموں کی آواز
کیا کہہ رہی ہے
خداوند
کیا آج کی رات بھی
تیری پلکوں کی سنگیں چٹانیں
نہیں ہٹ سکیں گی
خیاباں تو ہے دور تک گہری ظلمت کا پاتال
اور میں اس میں غوطہ زنی کر رہا ہوں
صداؤں کے معنی کی سینہ کشائی کی خاطر چلا ہوں
یہ درویش
جس کے اب و جد
وہ صحرائے دیروز کی ریت پر
تھک کے مر جانے والے
اسی کی طرح تھے
تہی دست اور خاک تیرہ میں غلطاں
جو تسلیم کو بے نیازی بنا کر
ہمیشہ کی محرومیوں ہی کو اپنے لیے
بال و پر جانتے تھے
جنہیں تھی فروغ گدائی کی خاطر
جلال شہی کی بقا بھی گوارا
جو لاشوں میں چلتے تھے
کہتے تھے لاشوں سے
سوتے رہو
صبح فردا کہیں بھی نہیں ہے
وہ جن کے لیے حریت کی نہایت یہی تھی
کہ شاہوں کا اظہار شاہنشہی
حد سے بڑھنے نہ پائے
بھلا حد کی کس کو خبر ہے
مگر آج کا یہ گدا
یہ ہمیشہ کا محروم بھی
ان اب و جد کے مانند
گو وقت کے شاطروں کی سیاست کا مارا ہوا ہے
ستم یہ کہ اس کے لیے آج
ملائے رومی کے
مجذوب شیراز کے
زنگ آلودہ اوہام بھی
دستگیری کو حاضر نہیں ہیں
خداوند
کیا آج کی رات بھی
تیری پلکوں کی سنگیں چٹانیں
نہیں ہٹ سکیں گی
تجھے اے زمانے کے روندے ہوئے
آج یہ بات کہنے کی حاجت ہی کیوں ہو
تو خوش ہو
کہ تیرے لیے کھل گئی ہیں ہزاروں زبانیں
جو تیری زباں بن کے
شاہوں کے خوابیدہ محلوں کے چاروں طرف
شعلے بن کر لپٹتی چلی جا رہی ہیں
سیاست نے سوچا ہے
تیری زباں بند کر دے
سیاست کو یہ کیوں خبر ہو
کہ لب بند ہوں گے
تو کھل جائیں گے دست و بازو
وہ بھاری یخ آلود قدموں کی آواز
یک لخت خاموش کیوں ہو گئی ہے
نو آموز مشرق کے
نوخیز آئین کے تازیانو
سکوت گدا سے
گدائی تو ساکت نہ ہوگی
About N. M. Rashid (ن م راشد)
ن م راشد (1910 – 1975) جدید اردو نظم کے اہم شاعر تھے۔ ماں کی یاد، حسنِ کوثر اور لامسہ ان کے مجموعے ہیں اور وہ آزاد نظم کے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by N. M. Rashid
- رات میں خواب بھی تھے (Poem)
- اے غزال شب (Poem)
- آ لگی ہے ریت دیواروں کے ساتھ (Poem)
- بیٹھا ہوا ہوں صبح سے لارنس باغ میں (Poem)