Prof. Syed Mujahid Sajjad

اے غزال شب

ن م راشد

کلیاتِ راشد

Published 14 October 2026

اے غزال شب

تری پیاس کیسے بجھاؤں میں

کہ دکھاؤں میں وہ سراب جو مری جاں میں ہے

وہ سراب ساحر خوف ہے

جو سحر سے شام کے رہگزر

میں فریب رہرو سادہ ہے

وہ سراب زادہ سراب گر کہ ہزار صورت نو بہ نو

میں قدم قدم پہ ستادہ ہے

وہ جو غالب و ہمہ گیر دشت گماں میں ہے

مرے دل میں جیسے یقین بن کے سما گیا

مرے ہست و بود پہ چھا گیا

اے غزال شب

اسی فتنہ کار سے چھپ گئے

مرے دیر و زود بھی خواب میں

مرے نزد و دور حجاب میں

وہ حجاب کیسے اٹھاؤں میں جو کشیدہ قالب دل میں ہے

کہ میں دیکھ پاؤں درون جاں

جہاں خوف و غم کا نشاں نہیں

جہاں یہ سراب رواں نہیں

اے غزال شب

About N. M. Rashid (ن م راشد)

ن م راشد (1910 – 1975) جدید اردو نظم کے اہم شاعر تھے۔ ماں کی یاد، حسنِ کوثر اور لامسہ ان کے مجموعے ہیں اور وہ آزاد نظم کے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by N. M. Rashid

More Urdu poetry by N. M. Rashid