گل و یاسمن کل سے نا آشنا
کلیاتِ راشد
Published 14 October 2026
گل و یاسمن کل سے نا آشنا
کل سے بے اعتنا
گل و یاسمن اپنے جسموں کی ہیئت میں فرد
مگر کل سے نا آشنا کل سے بے اعتنا
کسی مرگ مبرم کا درد
ان کے دل میں نہیں!
فقط اپنی تاریخ کی بے سر و پا طلب کے تلے
ہم دبے ہیں!
ہم اپنے وجودوں کی پنہاں تہیں
کھولتے تک نہیں
آرزو بولتے تک نہیں!
یہ تاریخ میری نہیں اور تیری نہیں
یہ تاریخ ہے اژدحام رواں
اسی اژدہام رواں کی یہ تاریخ ہے
یہ وہ چیخ ہے
جس کی تکرار اپنے من و تو میں ہے
وہ تکرار جو اپنی تہذیب کی ہو میں ہے
تجھے اس پہ حیرت نہیں
ہم اس اژدہام رواں کے نشان قدم پر چلے جا رہے ہیں
بڑھے جا رہے ہیں
کہ ہم ظلمت شب میں تنہا
پڑے رہ نہ جائیں
بڑھے جا رہے ہیں
نہ جینے کی خاطر
نہ اس سے فزوں زندہ رہنے کی خاطر
بڑھے جا رہے ہیں کسی عیب سے
رہزن مرگ سے بچ نکلنے کی خاطر
جدائی کی خاطر!
کسی فرد کے خوف سے بڑھ رہے ہیں
جو باطن کے ٹوٹے دریچوں کے پیچھے
شرارت سے ہنستا چلا جا رہا ہے
About N. M. Rashid (ن م راشد)
ن م راشد (1910 – 1975) جدید اردو نظم کے اہم شاعر تھے۔ ماں کی یاد، حسنِ کوثر اور لامسہ ان کے مجموعے ہیں اور وہ آزاد نظم کے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by N. M. Rashid
- رات میں خواب بھی تھے (Poem)
- اے غزال شب (Poem)
- زمستاں کی اس شام (Poem)
- آ لگی ہے ریت دیواروں کے ساتھ (Poem)