Prof. Syed Mujahid Sajjad

زندگی تیرے لیے بستر سنجاب و سمور

ن م راشد

کلیاتِ راشد

Published 14 October 2026

زندگی تیرے لیے بستر سنجاب و سمور

اور میرے لیے افرنگ کی دریوزہ گری

عافیت کوشئ آبا کے طفیل

میں ہوں درماندہ و بے چارہ ادیب

خستۂ فکر معاش

پارۂ نان جویں کے لیے محتاج ہیں ہم

میں مرے دوست مرے سیکڑوں ارباب وطن

یعنی افرنگ کے گلزاروں کے پھول

تجھے اک شاعر درماندہ کی امید نہ تھی

مجھ سے جس روز ستارہ ترا وابستہ ہوا

تو سمجھتی تھی کہ اک روز مرا ذہن رسا

اور مرے علم و ہنر

بحر و بر سے تری زینت کے گہر لائیں گے

میرے رستے میں جو حائل ہوں مرے تیرہ نصیب

کیوں دعائیں تری بے کار نہ جائیں

تیرے راتوں کے سجود اور نیاز

(اس کا باعث مرا الحاد بھی ہے)

اے مری شمع شبستان وفا

بھول جا میرے لیے

زندگی خواب کی آسودہ فراموشی ہے

تجھے معلوم ہے مشرق کا خدا کوئی نہیں

اور اگر ہے تو سرا پردۂ نسیاں میں ہے

تو ''مسرت'' ہے مری تو مری ''بے داری'' ہے

مجھے آغوش میں لے

دو ''انا'' مل کے جہاں سوز بنیں

اور جس عہد کی ہے تجھ کو دعاؤں میں تلاش

آپ ہی آپ ہویدا ہو جائے

About N. M. Rashid (ن م راشد)

ن م راشد (1910 – 1975) جدید اردو نظم کے اہم شاعر تھے۔ ماں کی یاد، حسنِ کوثر اور لامسہ ان کے مجموعے ہیں اور وہ آزاد نظم کے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by N. M. Rashid

More Urdu poetry by N. M. Rashid