Prof. Syed Mujahid Sajjad

سمندر کی تہ میں

ن م راشد

کلیاتِ راشد

Published 14 October 2026

سمندر کی تہ میں

سمندر کی سنگین تہ میں

ہے صندوق

صندوق میں ایک ڈبیا میں ڈبیا

میں ڈبیا

میں کتنے معانی کی صبحیں

وہ صبحیں کہ جن پر رسالت کے دربند

اپنی شعاعوں میں جکڑی ہوئی

کتنی سہمی ہوئی!

(یہ صندوق کیوں کر گرا؟

نہ جانے کسی نے چرایا؟

ہمارے ہی ہاتھوں سے پھسلا؟

پھسل کر گرا؟

سمندر کی تہ میں مگر کب؟

ہمیشہ سے پہلے

ہمیشہ سے بھی سالہا سال پہلے؟)

اور اب تک ہے صندوق کے گرد

لفظوں کی راتوں کا پہرا

وہ لفظوں کی راتیں

جو دیووں کی مانند

پانی کے لس دار دیووں کے مانند

یہ لفظوں کی راتیں

سمندر کی تہ میں تو بستی نہیں ہیں

مگر اپنے لا ریب پہرے کی خاطر

وہیں رینگتی ہیں

شب و روز

صندوق کے چار سو رینگتی ہیں

سمندر کی تہ میں!

بہت سوچتا ہوں

کبھی یہ معانی کی پاکیزہ صبحوں کی پریاں

رہائی کی امید میں

اپنے غواص جادو گروں کی

صدائیں سنیں گی؟

About N. M. Rashid (ن م راشد)

ن م راشد (1910 – 1975) جدید اردو نظم کے اہم شاعر تھے۔ ماں کی یاد، حسنِ کوثر اور لامسہ ان کے مجموعے ہیں اور وہ آزاد نظم کے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by N. M. Rashid

More Urdu poetry by N. M. Rashid