Prof. Syed Mujahid Sajjad

ہم محبت کے خرابوں کے مکیں

ن م راشد

کلیاتِ راشد

Published 14 October 2026

ہم محبت کے خرابوں کے مکیں

وقت کے طول المناک کے پروردہ ہیں

ایک تاریک ازل نور ابد سے خالی

ہم جو صدیوں سے چلے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ ساحل پایا

اپنی تہذیب کی پاکوبی کا حاصل پایا

ہم محبت کے نہاں خانوں میں بسنے والے

اپنی پامالی کے افسانوں پہ ہنسنے والے

ہم سمجھتے ہیں نشان سر منزل پایا

ہم محبت کے کے خرابوں کے مکیں

کنج ماضی میں ہیں باراں زدہ طائر کی طرح آسودہ

اور کبھی فتنۂ ناگاہ سے ڈر کر چونکیں

تو رہیں سد نگاہ نیند کے بھاری پردے

ہم محبت کے خرابوں کے مکیں!

ایسے تاریک خرابے کہ جہاں

دور سے تیز پلٹ جائیں ضیا کے آہو

ایک بس ایک صدا گونجتی ہو

شب آلام کی ''یاہو! یاہو''

ہم محبت کے خرابوں کے مکیں

ریگ دیروز میں خوابوں کے شجر بوتے رہے

سایہ ناپید تھا سائے کی تمنا کے تلے سوتے رہے

About N. M. Rashid (ن م راشد)

ن م راشد (1910 – 1975) جدید اردو نظم کے اہم شاعر تھے۔ ماں کی یاد، حسنِ کوثر اور لامسہ ان کے مجموعے ہیں اور وہ آزاد نظم کے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by N. M. Rashid

More Urdu poetry by N. M. Rashid