رقص کی رات کسی غمزۂ عریاں کی کرن
کلیاتِ راشد
Published 14 October 2026
رقص کی رات کسی غمزۂ عریاں کی کرن
اس لیے بن نہ سکی راہ تمنا کی دلیل
کہ ابھی دور کسی دیس میں اک ننھا چراغ
جس سے تنویر مرے سینۂ غم ناک میں ہے
ٹمٹماتا ہے اس اندیشے میں شاید کہ سحر ہو جائے
اور کوئی لوٹ کے آ ہی نہ سکے!
رقص کی رات کوئی دور طرب
بن نہ سکتا تھا ستاروں کی خدائی گردش؟
محور حال بھی ہو، جادۂ آئندہ بھی
اور دونوں میں وہ پیوستگئ شوق بھی ہو
جو کبھی ساحل و دریا میں نہ تھی،
پھر بھی حائل رہے یوں بعد عظیم
لب ہلیں اور سخن آغاز نہ ہو
ہاتھ بڑھ جائیں مگر لامسہ بے جان رہے؟
تجھے معلوم نہیں،
اب بھی ہر صبح دریچے میں سے یوں جھانکتا ہوں
جیسے ٹوٹے ہوئے تختے سے کوئی تیرہ نصیب
سخت طوفان میں حسرت سے افق کو دیکھے:
کاش ابھر آئے کہیں سے وہ سفینہ جو مجھے
اس غم مرگ تہہ آب سے آزاد کرے
رقص کی شب کی ملاقات سے اتنا تو ہوا
دامن زیست سے میں آج بھی وابستہ ہوں،
لیکن اس تختۂ نازک سے یہ امید کہاں
کہ یہ چشم و لب ساحل کو کبھی چوم سکے!
About N. M. Rashid (ن م راشد)
ن م راشد (1910 – 1975) جدید اردو نظم کے اہم شاعر تھے۔ ماں کی یاد، حسنِ کوثر اور لامسہ ان کے مجموعے ہیں اور وہ آزاد نظم کے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by N. M. Rashid
- رات میں خواب بھی تھے (Poem)
- اے غزال شب (Poem)
- زمستاں کی اس شام (Poem)
- آ لگی ہے ریت دیواروں کے ساتھ (Poem)