Prof. Syed Mujahid Sajjad

خدا حشر میں ہو مددگار میرا

ن م راشد

کلیاتِ راشد

Published 14 October 2026

خدا حشر میں ہو مددگار میرا

کہ دیکھی ہیں میں نے مسز سالا مانکا کی آنکھیں

مسز سالا مانکا کی آنکھیں

کہ جن کے افق ہیں جنوبی سمندر کی نیلی رسائی سے آگے

جنوبی سمندر کی نیلی رسائی

کہ جس کے جزیرے ہجوم سحر سے درخشاں

درخشاں جزیروں میں زرتاب و عناب و قرمز پرندوں کی جولاں گہیں

ایسے پھیلی ہوئی جیسے جنت کے داماں

پرندے ازل اور ابد کے مہ و سال میں بال افشاں!

خدا حشر میں ہو مددگار میرا

کہ میں نے لیے ہیں مسز سالا مانکا کے ہونٹوں کے بوسے

وہ بوسے کہ جن کی حلاوت کے چشمے

شمالی زمینوں کے زرتاب و عناب و قرمز درختوں

کے مدہوش باغوں سے آگے

جہاں زندگی کے رسیدہ شگوفوں کے سینوں

سے خوابوں کے رم دیدہ زنبور لیتے ہیں رس اور پیتے ہیں وہ

کہ جس کے نشے کی جلا سے

زمانوں کی نادیدہ محراب کے دو کناروں کے نیچے

ہیں یک بارگی گونج اٹھتے خلا و ملا کے جلاجل

جلاجل کے نغمے بہم ایسے پیوست ہوتے ہیں جیسے

مسز سالا مانکا کے لب میرے لب سے!

خدا حشر میں ہو مددگار میرا

کہ دیکھا ہے میں نے

مسز سالا مانکا کو بستر میں شب بھر برہنہ

وہ گردن وہ باہیں وہ رانیں وہ پستاں

کہ جن میں جنوبی سمندر کی لہروں کے طوفاں

شمالی درختوں کے باغوں کے پھولوں کی خوشبو

جہاں دم بدم عطر و طوفاں بہم اور گریزاں

مسز سالا مانکا کا جسم برہنہ

افق تا افق جیسے انگور کی بیل جس کی

غذا آسمانوں کا نور اور حاصل

وہ لذت کہ جس کا نہیں کوئی پایاں

خدا کے سوا کون ہے پاک داماں!

About N. M. Rashid (ن م راشد)

ن م راشد (1910 – 1975) جدید اردو نظم کے اہم شاعر تھے۔ ماں کی یاد، حسنِ کوثر اور لامسہ ان کے مجموعے ہیں اور وہ آزاد نظم کے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by N. M. Rashid

More Urdu poetry by N. M. Rashid