مرگ اسرافیل پر آنسو بہاؤ
کلیاتِ راشد
Published 14 October 2026
مرگ اسرافیل پر آنسو بہاؤ
وہ خداؤں کا مقرب وہ خداوند کلام
صوت انسانی کی روح جاوداں
آسمانوں کی ندائے بیکراں
آج ساکت مثل حرف ناتمام
مرگ اسرافیل پر آنسو بہاؤ
آؤ اسرافیل کے اس خواب بے ہنگام پر آنسو بہائیں
آرمیدہ ہے وہ یوں قرنا کے پاس
جیسے طوفاں نے کنارے پر اگل ڈالا اسے
ریگ ساحل پر چمکتی دھوپ میں چپ چاپ
اپنے صور کے پہلو میں وہ خوابیدہ ہے
اس کی دستار اس کے گیسو اس کی ریش
کیسے خاک آلودہ ہیں
تھے کبھی جن کی تہیں بود و نبود
کیسے اس کا صور اس کے لب سے دور
اپنی چیخوں اپنی فریادوں میں گم
جھلملا اٹھتے تھے جس سے دیر و زود
مرگ اسرافیل پر آنسو بہاؤ
وہ مجسم ہمہمہ تھا وہ مجسم زمزمہ
وہ ازل سے تا ابد پھیلی ہوئی غیبی صداؤں کا نشاں
مرگ اسرافیل سے
حلقہ در حلقہ فرشتے نوحہ گر
ابن آدم زلف در خاک و نزار
حضرت یزداں کی آنکھیں غم سے تار
آسمانوں کی صفیر آتی نہیں
عالم لاہوت سے کوئی نفیر آتی نہیں
مرگ اسرافیل سے
اس جہاں پر بند آوازوں کا رزق
مطربوں کا رزق اور سازوں کا رزق
اب مغنی کس طرح گائے گا اور گائے گا کیا
سننے والوں کے دلوں کے تار چپ
اب کوئی رقاص کیا تھرکے گا لہرائے گا کیا
بزم کے فرش و در و دیوار چپ
اب خطیب شہر فرمائے گا کیا
مسجدوں کے آستان و گنبد و مینار چپ
فکر کا صیاد اپنا دام پھیلائے گا کیا
طائران منزل و کہسار چپ
مرگ اسرافیل ہے
گوش شنوا کی لب گویا کی موت
چشم بینا کی دل دانا کی موت
تھی اسی کے دم سے درویشوں کی ساری ہاؤ ہو
اہل دل کی اہل دل سے گفتگو
اہل دل جو آج گوشہ گیر و سرمہ در گلو
اب تنا تا ہو بھی غائب اور یارب ہا بھی گم
اب گلی کوچوں کی ہر آوا بھی گم
یہ ہمارا آخری ملجا بھی گم
مرگ اسرافیل سے
اس جہاں کا وقت جیسے سو گیا پتھرا گیا
جیسے کوئی ساری آوازوں کو یکسر کھا گیا
ایسی تنہائی کہ حسن تام یاد آتا نہیں
ایسا سناٹا کہ اپنا نام یاد آتا نہیں
مرگ اسرافیل سے
دیکھتے رہ جائیں گے دنیا کے آمر بھی
زباں بندی کے خواب
جس میں مجبوروں کی سرگوشی تو ہو
اس خداوندی کے خواب
About N. M. Rashid (ن م راشد)
ن م راشد (1910 – 1975) جدید اردو نظم کے اہم شاعر تھے۔ ماں کی یاد، حسنِ کوثر اور لامسہ ان کے مجموعے ہیں اور وہ آزاد نظم کے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by N. M. Rashid
- رات میں خواب بھی تھے (Poem)
- اے غزال شب (Poem)
- زمستاں کی اس شام (Poem)
- آ لگی ہے ریت دیواروں کے ساتھ (Poem)