تیرے بستر پہ مری جان کبھی
کلیاتِ راشد
Published 14 October 2026
تیرے بستر پہ مری جان کبھی
بے کراں رات کے سناٹے میں
جذبۂ شوق سے ہو جاتے ہیں اعضا مدہوش
اور لذت کی گراں باری سے
ذہن بن جاتا ہے دلدل کسی ویرانے کی
اور کہیں اس کے قریب
نیند، آغاز زمستاں کے پرندے کی طرح
خوف دل میں کسی موہوم شکاری کا لیے
اپنے پر تولتی ہے، چیختی ہے
بے کراں رات کے سناٹے میں!
تیرے بستر پہ مری جان کبھی
آرزوئیں ترے سینے کے کہستانوں میں
ظلم سہتے ہوئے حبشی کی طرح رینگتی ہیں!
ایک لمحے کے لیے دل میں خیال آتا ہے
تو مری جان نہیں
بلکہ ساحل کے کسی شہر کی دوشیزہ ہے
اور ترے ملک کے دشمن کا سپاہی ہوں میں
ایک مدت سے جسے ایسی کوئی شب نہ ملی
کہ ذرا روح کو اپنی وہ سبکبار کرے!
بے پناہ عیش کے ہیجان کا ارماں لے کر
اپنے دستے سے کئی روز سے مفرور ہوں میں!
یہ مرے دل میں خیال آتا ہے
تیرے بستر پہ مری جان کبھی
بے کراں رات کے سناٹے میں!
About N. M. Rashid (ن م راشد)
ن م راشد (1910 – 1975) جدید اردو نظم کے اہم شاعر تھے۔ ماں کی یاد، حسنِ کوثر اور لامسہ ان کے مجموعے ہیں اور وہ آزاد نظم کے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by N. M. Rashid
- رات میں خواب بھی تھے (Poem)
- اے غزال شب (Poem)
- زمستاں کی اس شام (Poem)
- آ لگی ہے ریت دیواروں کے ساتھ (Poem)