ایشیا کے دور افتادہ شبستانوں میں بھی
کلیاتِ راشد
Published 14 October 2026
ایشیا کے دور افتادہ شبستانوں میں بھی
میرے خوابوں کا کوئی روماں نہیں!
کاش اک دیوار ظلم
میرے ان کے درمیاں حائل نہ ہو!
یہ عمارات قدیم
یہ خیاباں، یہ چمن، یہ لالہ زار،
چاندنی میں نوحہ خواں
اجنبی کے دست غارت گر سے ہیں
زندگی کے ان نہاں خانوں میں بھی
میرے خوابوں کا کوئی روماں نہیں!
کاش اک ''دیوار رنگ''
میرے ان کے درمیاں حائل نہ ہو!
یہ سیہ پیکر برہنہ راہرو
یہ گھروں میں خوبصورت عورتوں کا زہر خند
یہ گزر گاہوں پہ دیو آسا جواں
جن کی آنکھوں میں گرسنہ آرزؤں کی لپک
مشتعل، بے باک مزدوروں کا سیلاب عظیم!
ارض مشرق، ایک مبہم خوف سے لرزاں ہوں میں
آج ہم کو جن تمناؤں کی حرمت کے سبب
دشمنوں کا سامنا مغرب کے میدانوں میں ہے
ان کا مشرق میں نشاں تک بھی نہیں!
About N. M. Rashid (ن م راشد)
ن م راشد (1910 – 1975) جدید اردو نظم کے اہم شاعر تھے۔ ماں کی یاد، حسنِ کوثر اور لامسہ ان کے مجموعے ہیں اور وہ آزاد نظم کے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by N. M. Rashid
- رات میں خواب بھی تھے (Poem)
- اے غزال شب (Poem)
- زمستاں کی اس شام (Poem)
- آ لگی ہے ریت دیواروں کے ساتھ (Poem)