Prof. Syed Mujahid Sajjad

آرزو راہبہ ہے بے کس و تنہا و حزیں

ن م راشد

کلیاتِ راشد

Published 14 October 2026

آرزو راہبہ ہے بے کس و تنہا و حزیں

آرزو راہبہ ہے عمر گزاری جس نے

انہی محروم ازل راہبوں معبد کے نگہبانوں میں

ان مہ و سال یک آہنگ کے ایوانوں میں

کیسے معبد پہ ہے تاریکی کا سایہ بھاری

روئے معبود سے ہیں خون کے دھارے جاری

راہبہ رات کو معبد سے نکل آتی ہے

جھلملاتی ہوئی اک شمع لیے

لڑکھڑاتی ہوئی فرش و در و دیوار سے ٹکراتی ہوئی

دل میں کہتی ہے کہ اس شمع کی لو ہی شاید

دور معبد سے بہت دور چمکتے ہوئے انوار کی تمثیل بنے

آنے والی سحر نو یہی قندیل بنے

آرزو راہبہ ہے بے کس و تنہا و حزیں

ہاں مگر راہبوں کو اس کی خبر ہو کیونکر

خود میں کھوئے ہوئے سہمے ہوئے سرگوشی سے ڈرتے ہوئے

راہبوں کو یہ خبر ہو کیونکر

کس لیے راہبہ ہے بے کس و تنہا و حزیں

راہب استادہ ہیں مرمر کی سلوں کے مانند

بے کراں عجز کی جاں سوختہ ویرانی میں

جس میں اگتے نہیں دل سوزیٔ انساں کے گلاب

راہبہ شمع لیے پھرتی ہے

یہ سمجھتی ہے کہ اس سے در معبد پہ کبھی

گھاس پر اوس جھلک اٹھے گی

سنگ ریزوں پہ کوئی چاپ سنائی دے گی

About N. M. Rashid (ن م راشد)

ن م راشد (1910 – 1975) جدید اردو نظم کے اہم شاعر تھے۔ ماں کی یاد، حسنِ کوثر اور لامسہ ان کے مجموعے ہیں اور وہ آزاد نظم کے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by N. M. Rashid

More Urdu poetry by N. M. Rashid