ساز ہستی کی صدا غور سے سن
کلیاتِ ناصر کاظمی
Published 15 October 2026
ساز ہستی کی صدا غور سے سن
کیوں ہے یہ شور بپا غور سے سن
دن کے ہنگاموں کو بیکار نہ جان
شب کے پردوں میں ہے کیا غور سے سن
چڑھتے سورج کی ادا کو پہچان
ڈوبتے دن کی ندا غور سے سن
کیوں ٹھہر جاتے ہیں دریا سر شام
روح کے تار ہلا غور سے سن
یاس کی چھاؤں میں سونے والے
جاگ اور شور ذرا غور سے سن
ہر نفس دام گرفتاری ہے
نو گرفتار بلا غور سے سن
دل تڑپ اٹھتا ہے کیوں آخر شب
دو گھڑی کان لگا غور سے سن
اسی منزل میں ہیں سب ہجر و وصال
رہرو آبلہ پا غور سے سن
اسی گوشے میں ہیں سب دیر و حرم
دل صنم ہے کہ خدا غور سے سن
کعبہ سنسان ہے کیوں اے واعظ
ہاتھ کانوں سے اٹھا غور سے سن
موت اور زیست کے اسرار رموز
عامری بزم میں آ غور سے سن
کیا گزرتی ہے کسی کے دل پر
تو بھی اے جان وفا غور سے سن
کبھی فرصت ہو تو اے صبح جمال
شب گزیدوں کی دعا غور سے سن
ہے یہی ساعت ایجاب و قبول
صبح کی لو کو ذرا غور سے سن
کچھ تو کہتی ہیں چٹک کر کلیاں
کیا سناتی ہے صبا غور سے سن
برگ آوارہ بھی اک مطرب ہے
طائر نغمہ سرا غور سے سن
رنگ منت کش آواز نہیں
کل بھی ہے ایک نوا غور سے سن
خامشی حاصل موسیقی ہے
نغمہ ہے نغمہ نما غور سے سن
آئنہ دیکھ کے حیران نہ ہو
نغمۂ آب صفا غور سے سن
عشق کو حسن سے خالی نہ سمجھ
نالۂ اہل وفا غور سے سن
دل سے ہر وقت کوئی کہتا ہے
میں نہیں تجھ سے جدا غور سے سن
ہر قدم راہ طلب میں ناصرؔ
جرس دل کی صدا غور سے سن
About Nasir Kazmi (ناصر کاظمی)
ناصر کاظمی (1925 – 1972) پاکستان کے اردو شاعر تھے جو انبالہ میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے بعد لاہور آ بسے۔ وہ ریڈیو پاکستان لاہور میں ایڈیٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔ ان کا پہلا مجموعہ 'برگِ نے' (1952) تھا۔ اس کے علاوہ 'دیوان'، 'پہلی بارش' اور نظموں کا مجموعہ 'نشاطِ خواب' انہیں وابستہ ہے۔
More Urdu poetry by Nasir Kazmi
- رات سنسان آدمی نہ دیا (Nazm)
- موسم گلزار ہستی ان دنوں کیا ہے نہ پوچھ (Ghazal)
- ہنستے گاتے روتے پھول (Ghazal)
- گرد نے خیمہ تان لیا تھا (Ghazal)