Prof. Syed Mujahid Sajjad

ہنستے گاتے روتے پھول

ناصر کاظمی

کلیاتِ ناصر کاظمی

Published 15 October 2026

ہنستے گاتے روتے پھول

جی میں ہیں کیسے کیسے پھول

اور بہت کیا کرنے ہیں

کافی ہیں یہ تھوڑے پھول

وقت کی پھلواری میں نہیں

دامن میں ہیں ایسے پھول

اس دھرتی کی رونق ہیں

میرے کانٹے تیرے پھول

کیسے اندھے ہیں وہ ہاتھ

جن ہاتھوں نے توڑے پھول

ایک ہری کونپل کے لیے

میں نے چھوڑے کتنے پھول

اونچے اونچے لمبے پیڑ

سادے پتے پیلے پھول

مٹی کی خوشبو لینے

نیل گگن سے اترے پھول

چادر اوڑھ کے شبنم کی

آنکھیں ملتے نکلے پھول

شام ہوئی اب گلیوں میں

دیکھو چلتے پھرتے پھول

سونا جسم سفید قمیص

گورے ہاتھ سنہرے پھول

کچی عمریں کچھے رنگ

ہنس مکھ بھولے بھالے پھول

آنکھ آنکھ میں بھیگی نیند

ہونٹ ہونٹ سے جھڑتے پھول

گورے گورے ننگے پیر

جھلمل جھلمل کرتے پھول

جیسا بدن ویسا ہی لباس

جیسی مٹی ویسے پھول

مہک اٹھی پھر دل کی کتاب

یاد آئے یہ کب کے پھول

شام کے تارے تو ہی بتا

آج کدھر سے گزرے پھول

کانٹے چھوڑ گئی آندھی

لے گئی اچھے اچھے پھول

دھیان میں پھرتے ہیں ناصرؔ

اچھی آنکھوں والے پھول

About Nasir Kazmi (ناصر کاظمی)

ناصر کاظمی (1925 – 1972) پاکستان کے اردو شاعر تھے جو انبالہ میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے بعد لاہور آ بسے۔ وہ ریڈیو پاکستان لاہور میں ایڈیٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔ ان کا پہلا مجموعہ 'برگِ نے' (1952) تھا۔ اس کے علاوہ 'دیوان'، 'پہلی بارش' اور نظموں کا مجموعہ 'نشاطِ خواب' انہیں وابستہ ہے۔

Read all poetry by Nasir Kazmi

More Urdu poetry by Nasir Kazmi