کب تلک مدعا کہے کوئی
کلیاتِ ناصر کاظمی
Published 15 October 2026
کب تلک مدعا کہے کوئی
نہ سنو تم تو کیا کہے کوئی
غیرت عشق کو قبول نہیں
کہ تجھے بے وفا کہے کوئی
منت نا خدا نہیں منظور
چاہے اس کو خدا کہے کوئی
ہر کوئی اپنے غم میں ہے مصروف
کس کو درد آشنا کہے کوئی
کون اچھا ہے اس زمانے میں
کیوں کسی کو برا کہے کوئی
کوئی تو حق شناس ہو یا رب
ظلم کو نارواں کہے کوئی
وہ نہ سمجھیں گے ان کنایوں کو
جو کہے برملا کہے کوئی
آرزو ہے کہ میرا قصۂ شوق
آج میرے سوا کہے کوئی
جی میں آتا ہے کچھ کہوں ناصرؔ
کیا خبر سن کے کیا کہے کوئی
About Nasir Kazmi (ناصر کاظمی)
ناصر کاظمی (1925 – 1972) پاکستان کے اردو شاعر تھے جو انبالہ میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے بعد لاہور آ بسے۔ وہ ریڈیو پاکستان لاہور میں ایڈیٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔ ان کا پہلا مجموعہ 'برگِ نے' (1952) تھا۔ اس کے علاوہ 'دیوان'، 'پہلی بارش' اور نظموں کا مجموعہ 'نشاطِ خواب' انہیں وابستہ ہے۔
More Urdu poetry by Nasir Kazmi
- رات سنسان آدمی نہ دیا (Nazm)
- موسم گلزار ہستی ان دنوں کیا ہے نہ پوچھ (Ghazal)
- ہنستے گاتے روتے پھول (Ghazal)
- گرد نے خیمہ تان لیا تھا (Ghazal)