Prof. Syed Mujahid Sajjad

کارواں سست راہبر خاموش

ناصر کاظمی

کلیاتِ ناصر کاظمی

Published 15 October 2026

کارواں سست راہبر خاموش

کیسے گزرے گا یہ سفر خاموش

تجھے کہنا ہے کچھ مگر خاموش

دیکھ اور دیکھ کر گزر خاموش

یوں ترے راستے میں بیٹھا ہوں

جیسے اک شمع رہ گزر خاموش

تو جہاں ایک بار آیا تھا

ایک مدت سے ہے وہ گھر خاموش

اس گلی کے گزرنے والوں کو

تکتے رہتے ہیں بام و در خاموش

اٹھ گئے کیسے کیسے پیارے لوگ

ہو گئے کیسے کیسے گھر خاموش

یہ زمیں کس کے انتظار میں ہے

کیا خبر کیوں ہے یہ نگر خاموش

شہر سوتا ہے رات جاتی ہے

کوئی طوفاں ہے پردہ در خاموش

اب کے بیڑا گزر گیا تو کیا

ہیں ابھی کتنے ہی بھنور خاموش

چڑھتے دریا کا ڈر نہیں یارو

میں ہوں ساحل کو دیکھ کر خاموش

ابھی وہ قافلے نہیں آئے

ابھی بیٹھیں نہ ہم سفر خاموش

ہر نفس اک پیام تھا ناصرؔ

ہم ہی بیٹھے رہے مگر خاموش

About Nasir Kazmi (ناصر کاظمی)

ناصر کاظمی (1925 – 1972) پاکستان کے اردو شاعر تھے جو انبالہ میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے بعد لاہور آ بسے۔ وہ ریڈیو پاکستان لاہور میں ایڈیٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔ ان کا پہلا مجموعہ 'برگِ نے' (1952) تھا۔ اس کے علاوہ 'دیوان'، 'پہلی بارش' اور نظموں کا مجموعہ 'نشاطِ خواب' انہیں وابستہ ہے۔

Read all poetry by Nasir Kazmi

More Urdu poetry by Nasir Kazmi