کھیلتا تھا جب لڑکپن سے ترا رنگیں شباب
کلیاتِ مخدوم
Published 14 October 2026
کھیلتا تھا جب لڑکپن سے ترا رنگیں شباب
ہٹ رہی تھی ماہ عالم تاب کے رخ سے نقاب
زندگی تھی حسن نو آغاز کا رنگین خواب
یاد ہے وہ نوجوانی کا زمانہ یاد ہے
جب کہ ساز زندگی نغمات سے معمور تھا
ذرہ ذرہ میرے دل کی خاک کا جب طور تھا
میں اکیلا ہی نہیں سارا جہاں مسرور تھا
یاد ہے وہ نوجوانی کا زمانہ یاد ہے
کھیلتی تھی نوجوانی جب کہ بانہوں میں تری
زندگی کی بارشیں تھیں جلوہ گاہوں میں تری
رقص کرتی تھیں تمنائیں نگاہوں میں تری
یاد ہے وہ نوجوانی کا زمانہ یاد ہے
ہر ادائے حسن پر ہوتا تھا دل جب بے قرار
جب رہا کرتا ملاقاتوں کا باہم انتظار
جب طبیعت تجھ سے ملنا چاہتی تھی بار بار
یاد ہے وہ نوجوانی کا زمانہ یاد ہے
رات بھر سونے نہ دیتی تھی مسرت عید کی
جبکہ رہتی تھی دلوں میں بے قراری دید کی
ماہتاب عید بن جاتی کرن خورشید کی
یاد ہے وہ نوجوانی کا زمانہ یاد ہے
رات آتی تھی سنانے سوز کا پیغام جب
مشق تحریر جنوں بنتا تھا تیرا نام جب
تھا نہ کچھ پیش نظر اس عشق کا انجام جب
یاد ہے وہ نوجوانی کا زمانہ یاد ہے
About Makhdoom Mohiuddin (مخدوم محی الدین)
مخدوم محی الدین (1908 – 1969) اردو کے ترقی پسند شاعر اور سیاست دان تھے، جو حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی نظموں میں عوامی درد اور انقلابی شعور نمایاں ہے۔
More Urdu poetry by Makhdoom Mohiuddin
- بے دار ہوئیں مہر جوانی کی شعاعیں (Nazm)
- دھنک ٹوٹ کر سیج بنی (Nazm)
- روز روشن جا چکا، ہیں شام کی تیاریاں (Nazm)
- دل کا سامان اٹھاؤ (Nazm)