Prof. Syed Mujahid Sajjad

کھیلتا تھا جب لڑکپن سے ترا رنگیں شباب

مخدوم محی الدین

کلیاتِ مخدوم

Published 14 October 2026

کھیلتا تھا جب لڑکپن سے ترا رنگیں شباب

ہٹ رہی تھی ماہ عالم تاب کے رخ سے نقاب

زندگی تھی حسن نو آغاز کا رنگین خواب

یاد ہے وہ نوجوانی کا زمانہ یاد ہے

جب کہ ساز زندگی نغمات سے معمور تھا

ذرہ ذرہ میرے دل کی خاک کا جب طور تھا

میں اکیلا ہی نہیں سارا جہاں مسرور تھا

یاد ہے وہ نوجوانی کا زمانہ یاد ہے

کھیلتی تھی نوجوانی جب کہ بانہوں میں تری

زندگی کی بارشیں تھیں جلوہ گاہوں میں تری

رقص کرتی تھیں تمنائیں نگاہوں میں تری

یاد ہے وہ نوجوانی کا زمانہ یاد ہے

ہر ادائے حسن پر ہوتا تھا دل جب بے قرار

جب رہا کرتا ملاقاتوں کا باہم انتظار

جب طبیعت تجھ سے ملنا چاہتی تھی بار بار

یاد ہے وہ نوجوانی کا زمانہ یاد ہے

رات بھر سونے نہ دیتی تھی مسرت عید کی

جبکہ رہتی تھی دلوں میں بے قراری دید کی

ماہتاب عید بن جاتی کرن خورشید کی

یاد ہے وہ نوجوانی کا زمانہ یاد ہے

رات آتی تھی سنانے سوز کا پیغام جب

مشق تحریر جنوں بنتا تھا تیرا نام جب

تھا نہ کچھ پیش نظر اس عشق کا انجام جب

یاد ہے وہ نوجوانی کا زمانہ یاد ہے

About Makhdoom Mohiuddin (مخدوم محی الدین)

مخدوم محی الدین (1908 – 1969) اردو کے ترقی پسند شاعر اور سیاست دان تھے، جو حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی نظموں میں عوامی درد اور انقلابی شعور نمایاں ہے۔

Read all poetry by Makhdoom Mohiuddin

More Urdu poetry by Makhdoom Mohiuddin