روز روشن جا چکا، ہیں شام کی تیاریاں
کلیاتِ مخدوم
Published 14 October 2026
روز روشن جا چکا، ہیں شام کی تیاریاں
اڑ رہی ہیں آسماں پر زعفرانی ساڑیاں
شام رخصت ہو رہی ہے رات کا منہ چوم کر
ہو رہی ہیں چرخ پر تاروں میں کچھ سرگوشیاں
جلوے ہیں بیتاب پردے سے نکلنے کے لئے
بن سنور کر آ رہی ہیں آسماں کی رانیاں
نو عروس شب نے پہنا ہے لباس فاخرہ
آسمانی پیرہن میں کہکشانی دھاریاں
کارچوبی شامیانے میں رچی بزم نشاط
ساز نے انگڑائی لی بجنے لگی ہیں تالیاں
لاجوردی فرش پر ہے مشتری زہرہ کا رقص
نیل تن کرشن کے پہلو میں مچلتی گوپیاں
دست و پا کی نرم و خوش آہنگ ہلکی جنبشیں
یا فضا میں ناچتی ہیں گنگناتی بجلیاں
سرمدی نغمات سے ساری فضا معمور ہے
نطق رب ذو المنن ہیں رات کی خاموشیاں
نیند سی آنکھوں میں آتی ہے جھکا جاتا ہے سر
سن رہا تھا دیر سے میں آسمانی لوریاں
About Makhdoom Mohiuddin (مخدوم محی الدین)
مخدوم محی الدین (1908 – 1969) اردو کے ترقی پسند شاعر اور سیاست دان تھے، جو حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی نظموں میں عوامی درد اور انقلابی شعور نمایاں ہے۔
More Urdu poetry by Makhdoom Mohiuddin
- بے دار ہوئیں مہر جوانی کی شعاعیں (Nazm)
- دھنک ٹوٹ کر سیج بنی (Nazm)
- دل کا سامان اٹھاؤ (Nazm)
- یہ کس پیکر کی رنگینی سمٹ کر دل میں آتی ہے (Nazm)