بے دار ہوئیں مہر جوانی کی شعاعیں
کلیاتِ مخدوم
Published 14 October 2026
بے دار ہوئیں مہر جوانی کی شعاعیں
پڑنے لگیں عالم کی اسی سمت نگاہیں
خوابیدہ تھے جذبات بدلنے لگے کروٹ
روئے شرر طور سے ہٹنے لگا گھونگٹ
بھرنے لگے بازو تو ہوئے بند قبا تنگ
چڑھنے لگا طفلی پہ جوانی کا نیا رنگ
ساغر کی کھنک بن گئی اس شوخ کی آواز
بربط کی ہوئی گدگدی یا جاگ اٹھے ساز
اعضا میں لچک ہے تو ہے اک لوچ کمر میں
اعصاب میں پارہ ہے تو بجلی ہے نظر میں
آنے لگی ہر بات پہ رک رک کے ہنسی اب
رنگین تموج سے گراں بار ہوئے لب
وہ دیکھ بدلتے ہوئے پہلو کوئی اٹھا
وہ دیکھ بگاڑے ہوئے گیسو کوئی اٹھا
وہ دیکھ کہ کس گل کی مہک پھیلی ہے ہر سو
وہ دیکھ کہ ہے کون رواں بجتے ہیں گھنگرو
کم بخت اجل تھی یہ جوانی کی قبا میں
ٹکڑے ہیں کسی دل کے بھی نقش کف پا میں
About Makhdoom Mohiuddin (مخدوم محی الدین)
مخدوم محی الدین (1908 – 1969) اردو کے ترقی پسند شاعر اور سیاست دان تھے، جو حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی نظموں میں عوامی درد اور انقلابی شعور نمایاں ہے۔
More Urdu poetry by Makhdoom Mohiuddin
- دھنک ٹوٹ کر سیج بنی (Nazm)
- روز روشن جا چکا، ہیں شام کی تیاریاں (Nazm)
- دل کا سامان اٹھاؤ (Nazm)
- یہ کس پیکر کی رنگینی سمٹ کر دل میں آتی ہے (Nazm)