Prof. Syed Mujahid Sajjad

رات کے کوئی بارہ بجے ہوں گے

مخدوم محی الدین

کلیاتِ مخدوم

Published 14 October 2026

رات کے کوئی بارہ بجے ہوں گے

گرمی ہے

سڑکوں پہ کوئی نہیں

بوڑھا درویش بھی جا چکا ہے

اس جذامی بھکارن کی گاڑی

بھی نظروں سے اوجھل ہے

راستہ صاف ہے

ہوٹلوں سے نکلتی ہوئی لڑکیاں ہیں

نہ لڑکوں کے جھرمٹ

منڈیروں پر

دل میں

نہ دل کا دھڑکنا

نہ بھوکی نگاہیں

نہ سیٹی

قمقمے

گردنیں تانے

چشم بر براہ ہیں

کوئی گزرے تو گل ہو کے

ان کا تماشا کریں

سرکتے سرکتے

وہ فٹ پاتھ سے

کوئی چکر کی ہریالی پر آ جمے ہیں

چاند نکلا

تو چاروں نے چلایا

(سانپ کے منہ سے نکلا ہوا جیسے پیلا چھچھوندر)

لو چاند نکلا

وہ چاند تنہا ہے

اک درد سب کے دلوں میں پگھلنے لگا

ان کی نظروں نے بوسے لیے چاند کے

چاند کی پیٹھ کو تھپتھپایا

بڑے زور سے

جوش و مستی کے عالم میں

شیشے میں جتنی بچی تھی

وہ سب بانٹ کر

قہقہے مار کے

پی گئے

اور گلے مل کے

اک دوسرے کو بہت دور تک

چومتے بھی رہے

ناچتے ناچتے

چاروں رونے لگے

ہر ایک کے منہ سے نکلا

!یارو

ماں یاد آتی ہے، جاتا ہوں

میں نے تورات و انجیل و قرآن میں

یرمیہ ہاجرہ اور یعقوب

کے کرب کی داستانیں پڑھی ہیں

ان کا رونا سنا ہے

اور رویا بھی ہوں

آج بھی رو رہا ہوں

About Makhdoom Mohiuddin (مخدوم محی الدین)

مخدوم محی الدین (1908 – 1969) اردو کے ترقی پسند شاعر اور سیاست دان تھے، جو حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی نظموں میں عوامی درد اور انقلابی شعور نمایاں ہے۔

Read all poetry by Makhdoom Mohiuddin

More Urdu poetry by Makhdoom Mohiuddin