یہ کس پیکر کی رنگینی سمٹ کر دل میں آتی ہے
کلیاتِ مخدوم
Published 14 October 2026
یہ کس پیکر کی رنگینی سمٹ کر دل میں آتی ہے
مری بے کیف تنہائی کو یوں رنگیں بناتی ہے
یہ کس کی جنبش مژگاں رباب دل کو چھوتی ہے
یہ کس کے پیرہن کی سرسراہٹ گنگناتی ہے
مری آنکھوں میں کس کی شوخیٔ لب کا تصور ہے
کہ جس کے کیف سے آنکھوں میں میری نیند آتی ہے
سکوت اور شانتی کے ہر قدم پر پھول برساتی
اسیر کاکل شب گوں بنا کر مسکراتی ہے
مری آنکھوں میں گھل جاتی ہے وہ کیف نظر بن کر
مجھے قوس قزح کی چھاؤں میں پہروں سلاتی ہے
سحر تک وہ مجھے چمٹائے رکھتی ہے کلیجے سے
دبے پاؤں کرن خورشید کی آ کر جگاتی ہے
About Makhdoom Mohiuddin (مخدوم محی الدین)
مخدوم محی الدین (1908 – 1969) اردو کے ترقی پسند شاعر اور سیاست دان تھے، جو حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی نظموں میں عوامی درد اور انقلابی شعور نمایاں ہے۔
More Urdu poetry by Makhdoom Mohiuddin
- بے دار ہوئیں مہر جوانی کی شعاعیں (Nazm)
- دھنک ٹوٹ کر سیج بنی (Nazm)
- روز روشن جا چکا، ہیں شام کی تیاریاں (Nazm)
- دل کا سامان اٹھاؤ (Nazm)