عرش کی آڑ میں انسان بہت کھیل چکا
کلیاتِ مخدوم
Published 14 October 2026
عرش کی آڑ میں انسان بہت کھیل چکا
خون انسان سے حیوان بہت کھیل چکا
مور بے جاں سے سلیمان بہت کھیل چکا
وقت ہے آؤ دو عالم کو دگرگوں کر دیں
قلب گیتی میں تباہی کے شرارے بھر دیں
ظلمت کفر کو ایمان نہیں کہتے ہیں
سگ خوں خار کو انسان نہیں کہتے ہیں
دشمن جاں کو نگہبان نہیں کہتے ہیں
جاگ اٹھنے کو ہے اب خوں کا تلاطم دیکھو
ملک الموت کے چہرے کا تبسم دیکھو
جان لو قہر کا سیلاب کسے کہتے ہیں
ناگہاں موت کا گرداب کسے کہتے ہیں
قبر کے پہلوؤں کی داب کسے کہتے ہیں
دور نا شاد کو اب شاد کیا جائے گا
روح انساں کو آزاد کیا جائے گا
نالۂ بے اثر اللہ کے بندوں کے لیے
صلۂ دار و رسن حق کے رسولوں کے لیے
قصر شداد کے در بند ہیں بھوکوں کے لیے
پھونک دو قصر کو گر کن کا تماشا ہے یہی
زندگی چھین لو دنیا سے جو دنیا ہے یہی
زلزلوں آؤ دہکتے ہوئے لاؤ آؤ
بجلیو آؤ گرج دار گھٹاؤ آؤ
آندھیو آؤ جہنم کی ہواؤ آؤ
آؤ یہ کرۂ ناپاک بھسم کر ڈالیں
کاسۂ دہر کو معمور کرم کر ڈالیں
About Makhdoom Mohiuddin (مخدوم محی الدین)
مخدوم محی الدین (1908 – 1969) اردو کے ترقی پسند شاعر اور سیاست دان تھے، جو حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی نظموں میں عوامی درد اور انقلابی شعور نمایاں ہے۔
More Urdu poetry by Makhdoom Mohiuddin
- بے دار ہوئیں مہر جوانی کی شعاعیں (Nazm)
- دھنک ٹوٹ کر سیج بنی (Nazm)
- روز روشن جا چکا، ہیں شام کی تیاریاں (Nazm)
- دل کا سامان اٹھاؤ (Nazm)