محبت کو تم لاکھ پھینک آؤ گہرے کنویں میں
کلیاتِ مخدوم
Published 14 October 2026
محبت کو تم لاکھ پھینک آؤ گہرے کنویں میں
مگر ایک آواز پیچھا کرے گی
کبھی چاندنی رات کا گیت بن کر
کبھی گھپ اندھیرے کی پگلی ہنسی بن کے
پیچھا کرے گی
مگر ایک آواز پیچھا کرے گی
وہ آواز
نا خواستہ طفلک بے پدر
ایک دن
سولیوں کے سہارے
بنی نوع انساں کی ہادی بنی
پھر خدا بن گئی
کوئی ماں
کئی سال پہلے
زمانے کے ڈر سے
سر رہ گزر
اپنا لخت جگر چھوڑ آئی
وہ نا خواستہ طفلک بے پدر
ایک دن
سولیوں کے سہارے
بنی نوع انساں کا ہادی بنا
پھر خدا بن گیا
About Makhdoom Mohiuddin (مخدوم محی الدین)
مخدوم محی الدین (1908 – 1969) اردو کے ترقی پسند شاعر اور سیاست دان تھے، جو حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی نظموں میں عوامی درد اور انقلابی شعور نمایاں ہے۔
More Urdu poetry by Makhdoom Mohiuddin
- بے دار ہوئیں مہر جوانی کی شعاعیں (Nazm)
- دھنک ٹوٹ کر سیج بنی (Nazm)
- روز روشن جا چکا، ہیں شام کی تیاریاں (Nazm)
- دل کا سامان اٹھاؤ (Nazm)