کہو ہندوستاں کی جے
کلیاتِ مخدوم
Published 14 October 2026
کہو ہندوستاں کی جے
کہو ہندوستاں کی جے
قسم ہے خون سے سینچے ہوئے رنگیں گلستاں کی
قسم ہے خون دہقاں کی قسم خون شہیداں کی
یہ ممکن ہے کہ دنیا کے سمندر خشک ہو جائیں
یہ ممکن ہے کہ دریا بہتے بہتے تھک کے سو جائیں
جلانا چھوڑ دیں دوزخ کے انگارے یہ ممکن ہے
روانی ترک کر دیں برق کے دھارے یہ ممکن ہے
زمین پاک اب ناپاکیوں کو ڈھو نہیں سکتی
وطن کی شمع آزادی کبھی گل ہو نہیں سکتی
کہو ہندوستاں کی جے
کہو ہندوستاں کی جے
وہ ہندی نوجواں یعنی علمبردار آزادی
وطن کی پاسباں وہ تیغ جوہر دار آزادی
وہ پاکیزہ شرارہ بجلیوں نے جس کو دھویا ہے
وہ انگارہ کہ جس میں زیست نے خود کو سمویا ہے
وہ شمع زندگانی آندھیوں نے جس کو پالا ہے
اک ایسی ناؤ طوفانوں نے خود جس کو سنبھالا ہے
وہ ٹھوکر جس سے گیتی لرزہ بر اندام رہتی ہے
وہ دھارا جس کے سینے پر عمل کی ناؤ بہتی ہے
چھپی خاموش آہیں شور محشر بن کے نکلی ہیں
دبی چنگاریاں خورشید خاور بن کے نکلی ہیں
بدل دی نوجوان ہند نے تقدیر زنداں کی
مجاہد کی نظر سے کٹ گئی زنجیر زنداں کی
کہو ہندوستاں کی جے
کہو ہندوستاں کی جے
کہو ہندوستاں کی جے......
About Makhdoom Mohiuddin (مخدوم محی الدین)
مخدوم محی الدین (1908 – 1969) اردو کے ترقی پسند شاعر اور سیاست دان تھے، جو حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی نظموں میں عوامی درد اور انقلابی شعور نمایاں ہے۔
More Urdu poetry by Makhdoom Mohiuddin
- بے دار ہوئیں مہر جوانی کی شعاعیں (Nazm)
- دھنک ٹوٹ کر سیج بنی (Nazm)
- روز روشن جا چکا، ہیں شام کی تیاریاں (Nazm)
- دل کا سامان اٹھاؤ (Nazm)