اوروں کا ہے پیام اور میرا پیام اور ہے
کلیاتِ اقبال
Published 14 October 2026
اوروں کا ہے پیام اور میرا پیام اور ہے
عشق کے درد مند کا طرز کلام اور ہے
طائر زیر دام کے نالے تو سن چکے ہو تم
یہ بھی سنو کہ نالہ طائر بام اور ہے
آتی تھی کوہ سے صدا راز حیات ہے سکوں
کہتا تھا مور ناتواں لطف خرام اور ہے
جذب حرم سے ہے فروغ انجمن حجاز کا
اس کا مقام اور ہے اس کا نظام اور ہے
موت ہے عیش جاوداں ذوق طلب اگر نہ ہو
گردش آدمی ہے اور گردش جام اور ہے
شمع سحر یہ کہہ گئی سوز ہے زندگی کا ساز
غم کدۂ نمود میں شرط دوام اور ہے
بادہ ہے نيم رس ابھی شوق ہے نارسا ابھی
رہنے دو خم کے سر پہ تم خشت کلیسیا ابھی
About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)
علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔