اک دن رسول پاک نے اصحاب سے کہا
کلیاتِ اقبال
Published 14 October 2026
اک دن رسول پاک نے اصحاب سے کہا
ديں مال راہ حق ميں جو ہوں تم ميں مالدار
ارشاد سن کے فرط طرب سے عمر اٹھے
اس روز ان کے پاس تھے درہم کئي ہزار
دل ميں يہ کہہ رہے تھے کہ صديق سے ضرور
بڑھ کر رکھے گا آج قدم ميرا راہوار
لائے غرضکہ مال رسول اميں کے پاس
ايثار کي ہے دست نگر ابتدائے کار
پوچھا حضور سرور عالم نے ، اے عمر!
اے وہ کہ جوش حق سے ترے دل کو ہے قرار
رکھا ہے کچھ عيال کي خاطر بھي تو نے کيا؟
مسلم ہے اپنے خويش و اقارب کا حق گزار
کي عرض نصف مال ہے فرزند و زن کا حق
باقي جو ہے وہ ملت بيضا پہ ہے نثار
اتنے ميں وہ رفيق نبوت بھي آگيا
جس سے بنائے عشق و محبت ہے استوار
لے آيا اپنے ساتھ وہ مرد وفا سرشت
ہر چيز ، جس سے چشم جہاں ميں ہو اعتبار
ملک يمين و درہم و دينار و رخت و جنس
اسپ قمر سم و شتر و قاطر و حمار
بولے حضور، چاہيے فکر عيال بھي
کہنے لگا وہ عشق و محبت کا راز دار
اے تجھ سے ديدئہ مہ و انجم فروغ گير!
اے تيري ذات باعث تکوين روزگار!
پروانے کو چراغ ہے، بلبل کو پھول بس
صديق کے ليے ہے خدا کا رسول بس
About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)
علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔