Prof. Syed Mujahid Sajjad

اے کہ تیرا مرغ جاں تار نفس میں ہے اسیر

علامہ محمد اقبال

کلیاتِ اقبال

Published 14 October 2026

اے کہ تیرا مرغ جاں تار نفس میں ہے اسیر

اے کہ تیری روح کا طائر قفس میں ہے اسیر

اس چمن کے نغمہ پیراؤں کی آزادی تو دیکھ

شہر جو اجڑا ہوا تھا اس کی آبادی تو دیکھ

فکر رہتی تھی مجھے جس کی وہ محفل ہے یہی

صبر و استقلال کی کھیتی کا حاصل ہے یہی

سنگ تربت ہے مرا گرویدۂ تقریر دیکھ

چشم باطن سے ذرا اس لوح کی تحریر دیکھ

مدعا تیرا اگر دنیا میں ہے تعلیم دیں

ترک دنیا قوم کو اپنی نہ سکھلانا کہیں

وا نہ کرنا فرقہ بندی کے لیے اپنی زباں

چھپ کے ہے بیٹھا ہوا ہنگامۂ محشر یہاں

وصل کے اسباب پیدا ہوں تری تحریر سے

دیکھ کوئی دل نہ دکھ جائے تری تقریر سے

محفل نو میں پرانی داستانوں کو نہ چھیڑ

رنگ پر جو اب نہ آئیں ان فسانوں کو نہ چھیڑ

تو اگر کوئی مدبر ہے تو سن میری صدا

ہے دلیری دست ارباب سیاست کا عصا

عرض مطلب سے جھجک جانا نہیں زیبا تجھے

نیک ہے نیت اگر تیری تو کیا پروا تجھے

بندۂ مومن کا دل بيم و ريا سے پاک ہے

قوت فرماں روا کے سامنے بے باک ہے

ہو اگر ہاتھوں میں تیرے خامہ معجز رقم

شیشۂ دل ہو اگر تیرا مثال جام جم

پاک رکھ اپنی زباں تلمیذ رحمانی ہے تو

ہو نہ جائے دیکھنا تیری صدا بے آبرو

سونے والوں کو جگا دے شعر کے اعجاز سے

خرمن باطل جلا دے شعلۂ آواز سے

About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)

علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔

Read all poetry by Allama Iqbal

More Urdu poetry by Allama Iqbal