جل رہا ہوں کل نہيں پڑتي کسي پہلو مجھے
کلیاتِ اقبال
Published 14 October 2026
جل رہا ہوں کل نہيں پڑتي کسي پہلو مجھے
ہاں ڈبو دے اے محيط آب گنگا تو مجھے
سرزميں اپني قيامت کي نفاق انگيز ہے
وصل کيسا ، ياں تو اک قرب فراق انگيز ہے
بدلے يک رنگي کے يہ نا آشنائي ہے غضب
ايک ہي خرمن کے دانوں ميں جدائي ہے غضب
جس کے پھولوں ميں اخوت کي ہوا آئي نہيں
اس چمن ميں کوئي لطف نغمہ پيرائي نہيں
لذت قرب حقيقي پر مٹا جاتا ہوں ميں
اختلاط موجہ و ساحل سے گھبراتا ہوں ميں
دانہ خرمن نما ہے شاعر معجز بياں
ہو نہ خرمن ہي تو اس دانے کي ہستي پھر کہاں
حسن ہو کيا خود نما جب کوئي مائل ہي نہ ہو
شمع کو جلنے سے کيا مطلب جو محفل ہي نہ ہو
ذوق گويائي خموشي سے بدلتا کيوں نہيں
ميرے آئينے سے يہ جوہر نکلتا کيوں نہيں
کب زباں کھولي ہماري لذت گفتار نے!
پھونک ڈالا جب چمن کو آتش پيکار نے
About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)
علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔