حاضر ہوا ميں شيخ مجدد کي لحد پر
کلیاتِ اقبال
Published 14 October 2026
حاضر ہوا ميں شيخ مجدد کي لحد پر
وہ خاک کہ ہے زير فلک مطلع انوار
اس خاک کے ذروں سے ہيں شرمندہ ستارے
اس خاک ميں پوشيدہ ہے وہ صاحب اسرار
گردن نہ جھکي جس کي جہانگير کے آگے
جس کے نفس گرم سے ہے گرمي احرار
وہ ہند ميں سرمايہء ملت کا نگہباں
اللہ نے بر وقت کيا جس کو خبردار
کي عرض يہ ميں نے کہ عطا فقر ہو مجھ کو
آنکھيں مري بينا ہيں ، و ليکن نہيں بيدار!
آئي يہ صدا سلسلہء فقر ہوا بند
ہيں اہل نظر کشور پنجاب سے بيزار
عارف کا ٹھکانا نہيں وہ خطہ کہ جس ميں
پيدا کلہ فقر سے ہو طرئہ دستار
باقي کلہ فقر سے تھا ولولہء حق
طروں نے چڑھايا نشہء 'خدمت سرکار'!
About Allama Iqbal (علامہ محمد اقبال)
علامہ محمد اقبال (1877 – 1938) برصغیر کے نامور شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری خودی، بیداری اور انسان کی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔